خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 36
خطبات طاہر جلد ۳ 36 خطبہ جمعہ ۲۰/جنوری ۱۹۸۴ء خوب روشن ہیں۔وہ ان کو ان کی ماؤں کے بطون سے جانتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ ماؤں کے رحم کس چیز کو گھٹاتے ہیں اور کس چیز کو بڑھاتے ہیں اور ان سب باتوں کے باوجود اس نے ان بندوں پر محافظین مقرر فرما ر کھے ہیں جو اللہ کے اذن کے ساتھ ان کی حفاظت کرتے ہیں ان کے آگے بھی اور ان کے پیچھے بھی اور یہ اس لئے ہے کہ خدا تعالیٰ کسی قوم کی نعمت کو جب انہیں عطا کر دیتا ہے تو ان سے واپس نہیں لیتا یہاں تک کہ وہ خود اپنی حالت کو بدلتے چلے جاتے ہیں اور پھر ایک ایسا مقام آجاتا ہے کہ اللہ جو اس قدر رحم کرنے والا ، اس قدر عفو کرنے والا اور اس قدرستاری کرنے والا ہے وہ اپنے ہاتھوں اس قوم کی بدلی ہوئی حالت کو جب اس حد تک بگڑتا ہوا دیکھتا ہے کہ وہ نعمت کے مستحق نہیں رہتے پھر وہ اپنی نعمت کا ہاتھ ان سے بھینچ لیتا ہے لیکن اتنے لمبے انتظار اور اتنے لمبے صبر اور اتنی لمبی حفاظت اور اتنے لمبے عفو اور اتنی لمبی ستاری کے بعد وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَّالٍ پھر جب خدا یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ کسی قوم کو اس کی برائی کی سزا دے تو کوئی نہیں ہے کہ جو خدا کے فیصلے اور اس قوم کے درمیان حائل ہو سکے۔وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَّالِ خدا سے بچانے والا پھر کوئی نہیں۔ان آیات میں جو بکثرت مضامین بیان ہوئے ہیں ان کے اندروطن در بطن مضمون پھر چلتا چلا جاتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی ستاری کا ایک بہت ہی پیارا نقشہ کھینچا گیا ہے۔عفو کا مضمون میں نے گزشتہ جمعہ میں بیان کیا تھا اگر چہ وقت کی رعایت کے پیش نظر اس کے تمام پہلوؤں کو تو میں بیان نہیں کر سکا تھا لیکن کسی حد تک میں نے عفو کے بارہ میں جماعت کو تعلیم دی تھی کہ اللہ تعالیٰ سے عفو کا سلوک چاہتے ہیں تو خدا کی طرح عفو“ بننے کی کوشش کریں۔بندوں سے صرف نظر کیا کریں ان کے گناہوں سے آنکھیں پھیرا کریں تو اللہ تعالیٰ بھی آپ سے صرف نظر فرمائے گا اور آپ سے اسی طرح عفو کا سلوک فرمائے گا بلکہ بہت بڑھ کر سلوک فرمائے گا جس طرح آپ اللہ کے بندوں سے کرتے ہیں۔عفو کا جہاں ایک تعلق مغفرت سے ہے وہاں ایک دوسرا تعلق ستاری سے ہے اور خدا تعالیٰ کی صفات کو ہم اس طرح زنجیروں کی شکل میں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط پاتے ہیں جس طرح مادی دنیا میں کیمسٹ جانتا ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ کی تخلیقات میں ایٹم ایک دوسرے سے جڑ کر