خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 35
خطبات طاہر جلد ۳ 35 خطبہ جمعہ ۲۰/جنوری ۱۹۸۴ء صفت ستاری اپنانے کی تلقین (خطبه جمعه فرموده ۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْ ءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ سَوَاءٍ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَبِهِ وَمَر من هو مسـ خَفْ بِالَّيْلِ وَسَارِبُ بِالنَّهَارِ لَهُ مُعَقِّبْتُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَ مِنْ أَمْرِ اللهِ إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَّالٍ (الرعد: ۹-۱۲) جن آیات کریمہ کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال سے خوب واقف ہے اور اس بات سے بے نیاز ہے کہ وہ اونچی بات کرتے ہیں یا مخفی بات کرتے ہیں ، اپنے حال کو ظاہر کرتے ہیں یا دلوں میں چھپاتے ہیں ، دن کو کھل کر لوگوں کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں یا راتوں کو چھپ کر بعض مخفی ارادوں کے ساتھ چلتے ہیں ، ان کے احوال خدا پر