خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 410 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 410

خطبات طاہر جلد ۳ 410 خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۸۴ء تَهْتَدُونَ (الاعراف: ۱۵۸-۱۵۹) اور پھر فرمایا: آج کل جماعت احمدیہ کو جو اسلامی عبادات اور شعائر سے روکا جا رہا ہے اس کی بڑی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ تم ہماری نقالی کرتے ہو اور ہم تمہیں اپنی نقالی کی اجازت نہیں دے سکتے۔یہ ایک ایسا مذہب کی دنیا میں ایک عجوبہ تصور ہے کہ سارے انسان کی تاریخ میں کبھی ایسا واقعہ اس سے پہلے نہیں ہوا۔نقالی کرنے کے جرم میں اگر سزا دی گئی ہے تو صرف ایک مذہب میں یہ واقعہ ملتا ہے اس لئے یہ کہنا تو درست نہیں کہ ساری دنیا میں یہ واقعہ نہیں ہوا ہاں ایک مذہب میں ایسا واقعہ ضرور گزرا ہے کہ جس میں نقالی کے جرم میں بعض لوگوں کو سزائیں دی گئیں اور مذہب کا حصہ بنا کر دی گئیں اور وہ ہندو مذہب ہے۔ہندومت میں جو مختلف ذاتوں کے تصور ہیں ان کی رو سے جو برہمن کو عبادت کے حقوق ہیں وہ شودر کو حاصل نہیں اس لئے وہ جو برہمن کی عبادتیں ہیں ان میں اگر شودر بھی شامل ہو جائے اور وہی باتیں شروع کر دے جو برہمن کرتے ہیں تو اس کیلئے ایک سزا مقرر ہے بلکہ کئی سزائیں مقرر ہیں مثلاً اگر وہ اللہ کا ذکر اس رنگ میں سنے جس رنگ میں برہمنوں کے لئے سنے کا حکم ہے تو اس کے کانوں میں سیسہ پگھلایا جائے گا اور اگر وہ دیکھے ان باتوں کو جن باتوں کو برہمن کو دیکھنے کا حکم ہے تو اس کی آنکھیں اندھی کر دی جائیں گی۔غرض یہ کہ برہمن کا مذہب اور ہے اور شودر کا مذہب اور ، اور یہ سارے ہندو مذہب کے تابع ہی ہیں اس لئے اس مذہب میں ایک مثال ہے لیکن ایک فرق کے ساتھ کہ ایک ہی مذہب کے اندر دو مختلف طبقوں کو تعلیم دی گئی ہے یعنی یہ نہیں کہا گیا کہ اچھے کام کی نقالی منع ہے بلکہ ایک مذہب کے دو حصے بنا کر ان کے ذمہ الگ الگ عبادتیں کی گئی ہیں۔لیکن بہر حال اس کی سند موجود ہے۔ہم سے جو یہ کہا جا رہا ہے تم ہماری نقالی نہ کرو اس کے لئے تو قرآن کریم میں کوئی سند موجود نہیں۔اس کے لئے دیگر مذاہب میں ہندومت کو چھوڑ کر دیگر مذاہب میں بھی کوئی سند موجود نہیں اور ہمیشہ اس کے برعکس نظارے نظر آتے ہیں۔اگر کوئی شخص نقالی نہ کرے بلکہ مخالفت کرے تو یہ برا