خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 402 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 402

خطبات طاہر جلد۳ 402 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء کرے؟ کہتے ہیں نہیں، بالکل درست نہیں۔حق کو حق ہے کہ باطل کو تبلیغ کرے۔یہاں تک تو بات سمجھ میں آ گئی۔آگے چلئے تبلیغ کیسے کرے کہ تم یہ بات مان جاؤ اور اگر نہیں مانو گے تو ڈنڈے ماریں گے اور اگر نہیں مانی تو نہ مانولیکن آگے سے جواب دینے کا حق تمہیں کوئی نہیں ہے۔تمہیں سمجھ آئے یا نہ آئے تم خاموشی سے سنتے رہو۔یہ تبلیغ کا دستور کہاں سے لیا گیا ہے؟ یہ تو ساری قرانی تاریخ اس دستور کو جھٹلا رہی ہے ، بخشیں ہوا کرتی تھیں بلکہ برعکس نتیجہ تھا۔قرآنی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انبیاء دلائل پیش کرتے تھے اور وہ ڈنڈوں پر آجاتے تھے مخالفین اور وہ کہتے تھے بس کرو اب ورنہ آیا ڈنڈا اور انبیاء کہتے رہ جاتے تھے کہ تبلیغ کرو ہمیں هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ (البقرہ:۱۱۲) ایک جگہ نہیں متعدد جگہ قرآن کریم میں یہ آیت موجود ہے اسی مضمون کی کہ بار بار انبیاء کہتے رہے کہ دلیل تو لاؤ بھائی؟ دلیل سے بات کرو۔وہ کہتے تھے دلیل دلیل ہم نہیں جانتے اب کافی ہوگئی ہے اب ہم ڈنڈا اٹھا ئیں گے تو یہ بلیغ تھی انبیاء کی نعوذ باللہ من ذالک، وہ کہتے تھے کہ مانو ورنہ ہم اٹھاتے ہیں ڈنڈا اور یہ چل نہیں سکتی یہ تو ویسی تبلیغ ہے جیسے کسی بادشاہ کا بت تھا جو ایک کسی زمانے میں لاہور میں چیرنگ کر اس میں نصب ہوتا تھا۔اس کے ایک ہاتھ میں تلوار تھی اور ایک ہاتھ میں قلم تھا اور انسکر پشن (Inscription) یہ بتاتی تھی کہ باتوں سے مان جاؤ ورنہ تلوار گرے گی اور زبردستی تمہیں ٹھیک کریں گے۔یہ برٹش حکومت کا خلاصہ تھا جو اس بت کی شکل میں بیان کیا گیا کہ زبان سے مانو ورنہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے پھر لاتیں بھی آئیں گی پیچھے۔تو یہ وہ انگریزی قوم کی تبلیغ تھی جو کہ نعوذ باللہ من ذالک قرآن کریم نے اختیار کرلی ہے یا جسے سنت انبیاء فرمایا نعوذ باللہ من ذالک۔بالکل نہیں۔وہ تبلیغ جو تم کہتے ہو چل ہی نہیں سکتی پس اگر یہ کہو گے کہ ہماری باتیں سنو اور جواب میں تمہارے ذہن میں کوئی بھی خیال آئے اس کو تمہیں بتانے کا حق نہیں تو پھر تبلیغ کا راستہ عملاً بند کر دیا یعنی حق کی تبلیغ کا راستہ بند کر دیا کیونکہ جب تک شکوک بیان نہ کئے جائیں اُس وقت تک کسی انسان پر تبلیغ کارگر نہیں ہوسکتی۔تو کہنا یہ چاہتے تھے کہ باطل کی تبلیغ کا رستہ بند کر رہے ہیں، نتیجہ یہ نکالا کہ حق کی تبلیغ کارستہ بند کر دیا اپنے ہاتھوں سے، بالکل برعکس نتیجہ ہے اور اگر اجازت دے دیں ان کو بولنے کی تو پھر ہاتھ کیا آیا ؟ وہ جب جواب دیں گے وہی تو ان کی تبلیغ ہے۔جب وہ کہیں گے کہ میاں ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہی ہمیں تو قرآن کریم یوں لگتا ہے کہ یہ کہہ رہا ہے تو کیا وہ تبلیغ نہیں ہوگی ؟ تو کس طرح بند کریں گے؟ ناممکن ہے سوائے اس کے کہ خود کشی کی جائے اور تبلیغ کا