خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 403
خطبات طاہر جلد ۳ 403 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء بالکل برعکس نتیجہ پیدا کر دیا جائے ، اس وقت تک یہ قانون جاری ہی نہیں ہوسکتا کسی ملک میں۔تو کتنا عظیم الشان کلام ہے خدا کا، کیسا حسین اور کامل ہے کہ برعکس اختیار کرنے کے اجازت ہی نہیں دیتا۔زور لگا کے دیکھ لوتم نا کام اور نا مراد رہ جاؤ گے اور قرآنی تعلیم کے برعکس تعلیم کو جاری نہیں کر سکتے یا جاری کرو گے تو برعکس نتیجے بھی ساتھ حاصل کرو گے۔اپنے مقصد کے نتائج کے حاصل نہیں کر سکتے۔لیکن جب قوموں کی عقلیں ماری جاتی ہیں تو پھر یہی ہوا کرتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ بھی نہیں سوچا جارہا کہ اس کے دوسرے لوازمات کیا ہیں اور اس کے بعد میں پیدا ہونے والے اثرات دنیا پر کیا ہوں گے۔امر واقعہ یہ ہے کہ سارے عالم میں اسلام کی تبلیغ بند کرنے کی اس سے بہتر ترکیب کسی ظالم کو نہیں سوجھ سکتی تھی کیونکہ اگر ایک ملک میں کوئی انسان اپنی اکثریت کی بنا پر یہ حق منوالے کہ چونکہ ہم اکثریت میں ہیں اور ہم حق پر ہیں، یہ یقین رکھتے ہیں اپنے آپ کو کہ ہم حق پر ہیں۔حق پر ہونے کا انسانی نسبت کے لحاظ سے اس سے زیادہ معنی کیا ہی نہیں جاسکتا کیونکہ Absolute اور غیر مشروط فیصلہ سوائے خدا کے کوئی نہیں کر سکتا لیکن یہ ضرور ہے کہ بہت سے انسان بعض باتوں پر پیدا ہوتے ہیں، ورثے میں حاصل کرتے ہیں اور موت تک وہ کامل یقین اس بات کا رکھتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور ہمارے مخالفین باطل پر ہیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی ان کو اس بات میں شک نہیں پڑتا۔تو اگر دنیا کے کسی ملک میں کوئی اکثریت یہ فیصلہ کرے کہ چونکہ عقلاً باطل کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ حق میں فتنہ پھیلائے اور پھسلا کر اور کئی طریقے اختیار کر کے ہماری آدمی توڑنے شروع کر دے اور اقلیت کو اکثریت میں بدلنے لگ جائے۔یہ ملک میں اتنا بڑافتنہ کسی نظریاتی مملکت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔یہ نظریاتی مملکت کا محاورہ بھی اشتراکیوں سے ایسا سیکھا ہے بعض لوگوں نے کہ عقلیں گم ہوگئی ہیں سوچتے ہی نہیں کہ یہ کیا محاورہ ہم نے اختیار کر لیا ہے اور چونکہ رائج ہو چکا ہے اس لئے بغیر سوچے سمجھے اچھے تعلیم یافتہ لوگ بھی اس کو چپ کر کے تسلیم کر رہے ہیں کہ کسی نظریاتی مملکت میں اس نظریہ کے خلاف بات تسلیم نہیں کی جاسکتی یعنی اس کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔کل تک تو اشترا کیوں کو ظالم قرار دیتے تھے، کہتے تھے حد ہوگئی ، اندھیر نگری ہے کہ نظریات کے اوپر پہرے بٹھا دیئے ہیں اور آج یہ اتنا منجھا ہوا محاورہ بن گیا ہے کہ بڑے بڑے بظاہر تعلیم یافتہ لوگ بھی اسے با قاعدہ دلیل کے