خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 398
خطبات طاہر جلد ۳ 398 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء ہے اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ آپ اپنی پناہ ہٹاتے ہیں اور کوئی شکوہ نہیں آپ اپنی پناہ کو دور کر لیجئے مگر جہاں تک ان کے پیغام کا تعلق ہے خدا کی قسم اگر یہ سورج کو میرے دائیں ہاتھ پر بھی لا کر رکھ دیں اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ پر لا کر بھی رکھ دیں تب بھی میں تبلیغ اسلام سے باز نہیں آؤں گا۔یہ جواب تھا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا۔(السیرۃ النبوی لا بن هشام جلد۲ صفحہ: ۱۰۱۹۷) تو اس دور تک جو سید الانبیاء کا دور ہے، اس وقت تک تو یہ دستور نہیں بدلا تھا۔ہم یہ کہتے ہیں کہ تمہیں بھی اتفاق ہے اس پر۔یہ تاریخ متفق علیہ ہے ، قرآن کی بیان کردہ ہے اور سنت نے اس کی حفاظت فرمائی ہے کہ اختلاف صرف اتنا ہے کہ اب یہ بتاؤ کہ یہ پھر دستورالٹا کس وقت ہے۔کب یہ فیصلے ہوئے تھے؟ کس کتاب میں اس کا ذکر ملتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اچانک اس سارے مضمون کو الٹا دیا ہو۔جن لوگوں پر لعنتیں ڈالتا آیا ہو اور ساری تاریخ میں اُن لوگوں کا ذکر کر کے ان پر لعنتیں ڈالی ہوں کہ کیسے ظالم لوگ تھے کہ اس وجہ سے کہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور کسی کو باطل پر سمجھتے تھے۔انسانی بنیادی حقوق پر تبر رکھ دیا اور با ہمی تبادلہ خیالات کی روکو روک دیا جس کے بغیر نہ انسانی عقل ترقی کر سکتی ہے، نہ معاشرہ ترقی کر سکتا ہے، نہ صداقت پنپ سکتی ہے اور سزائیں تجویز کیں اختلاف عقیدہ کے نتیجے میں تبادلہ خیالات پر اور وہاں دخل دیا جہاں انسان دخل دے نہیں سکتا یعنی دل کے او پر حملہ کیا اور کہا کہ اس دل کو بدلاور نہ ہم تمہیں قتل کر دیں گے کیونکہ ایمان اور یقین کا تعلق تو دل سے ہے یعنی جسے عام دنیا کے عرف عام میں دماغ بھی کہا جاتا ہے لیکن قرآنی محاورے میں اسے دل کہتے ہیں تو کہتے ہیں دل تبدیل کرو ورنہ ہم تمہیں قتل کریں گے۔یہ جنگ چلی آرہی ہے جب سے مذہب کی تاریخ ہمیں معلوم ہے جس کی قرآن نے حفاظت کی اور اُسے بار بار دہرایا اور ہر مرتبہ قرآن کریم نے یہ نتیجہ نکالا کہ وہ لوگ ہلاک ہو گئے فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ (الدخان: ۳۰) ان کے اوپر آسمان نے پھر آنسو نہیں بہائے اس طرح ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا کہ ان کے نشان مٹ گئے ، ان دو جرائم کے نتیجے میں کہ وہ تبلیغ سے روکتے تھے اور قتل مرتد کا عقیدہ رکھتے تھے اور کہتے یہ تھے بات کو سجا کر اور بنا کر کہ ہمارے آباؤ اجداد کا مذہب ہے ، ہم حق پر ہیں تم باطل پر ہو ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں، کھلم کھلا مفتری سمجھتے ہیں اس لئے ہمیں یہ حق ہے۔اختلاف ہمارا اور غیر احمدیوں کا صرف اتنا ہے کہ ہم کہتے ہیں یہاں تک تو درست ہے لیکن یہ