خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 389
خطبات طاہر جلد ۳ 389 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۸۴ء خدا تعالیٰ نے خود فرمایا رسول ﷺ کو کہ ان کو کہ دوسم غیر مومن ہو، اسی کو کافر کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی غیر مسلم نہیں کہا نہ مجبور کیا کہ تم اپنے آپ کو غیر مسلم کہو، یہ دو الگ الگ اصطلاحیں ہیں۔تو اس لئے جب میں کہتا ہوں مہینہ تو مراد یہ نہیں کہ ہم مسلمان نہیں تسلیم کرتے ہم تو یہ اقرار کرتے ہیں کہ جو منہ سے جو کہتا ہے، جس مذہب کی طرف منسوب ہوتا ہے اسے یہ حق بہر حال دیا جائے گا کہ وہ اس مذہب کی طرف منسوب ہو۔جب ہم کہتے ہیں کا فر ہے تو مراد صرف یہ ہے کہ فی الحقیقت جہاں تک اس مذہب کے مغز کا تعلق ہے وہ اس سے عاری ہے اور مراد صرف اتنی ہے کہ جب وہ وفات پائے گا تو خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہوگا ، اس کے اعمال اس کو کافر بتا رہے ہوں گے یا اس کے بعض بدعقائد اس کو کا فر بتا رہے ہوں گے اس سے زیادہ اس ہمارے فتوے کی کوئی حقیقت نہیں۔تو بہر حال یہ جو دوسرے مسلمان ہیں اس پاکستان میں ان کے متعلق ہم پر یہ پابندی ہے کہ ان کو تبلیغ نہیں کرنی حالانکہ یہ سوچا ہی نہیں گیا کہ تبلیغ تو دو دھاری تلوار ہوتی ہے ایک طرف سے بند ہو ہی نہیں سکتی جب تک دوسری طرف سے بند نہ ہو تو عوام الناس پاکستان کے بیچارے سوچ ہی نہیں سکے کہ ہوا کیا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ ان پر بھی یہ پابندی عائد ہوگئی ہے کہ انہوں نے ہمیں تبلیغ نہیں کرنی اگر یہ نہیں ہے تو پھر یہ شکل نکلتی ہے حکومت پاکستان کا یہ فیصلہ ہوگیا کہ اگر احمدیوں کو کوئی غیر احمدی تبلیغ کرے تو انہوں نے نہایت خاموشی سے تبلیغ سننی ہے اور جواباً کچھ نہیں کہنا سمجھ آئے یا نہ آئے یک طرفہ بات سنتے چلے جائیں اور جواب میں کچھ نہ کہیں یہ قانون ہے، کہاں سے لیا ؟ قرآن سے حاصل کیا سنت محمد مصطفی ﷺ سے اخذ کیا ؟ آنحضور علے تو جب تبلیغ کرتے تھے تو دو پہلو نمایاں تھے۔ایک یہ کہ دنیا کا کوئی فرد بشر آپ کی تبلیغ کے فیض سے باہر نہیں رہا نہ قرآن نے اجازت دی کہ کسی کو چھوڑ دو، یہودیوں کے پاس بھی گئے ، دکھ اُٹھا کر ماریں کھا کر بھی گئے، اور تبلیغ کی تو یہ کون سی شریعت ہے کہ احمدیوں کو تبلیغ نہیں کرنی اور اگر تبلیغ کرنی ہے تو پھر یہ سنت کہاں سے نکال لی کہ تم بولے جاؤ اور احمدی نہیں بولے گا کیونکہ آنحضرت ﷺ کا تو یہ تبلیغ کا نمونہ نہیں تھا۔آپ تو گھنٹوں دیتے تھے غیروں کو ان کو تبلیغ کرتے تھے پھر ان کی باتیں سنتے تھے بڑے تحمل اور پیار سے سنتے تھے، بلکہ ایسے بھی تھے جو آ کر نہایت گستاخیاں کر جاتے تھے بڑی سخت گستاخیاں کر جاتے تھے گفتگو کے دوران اور ان کو موقع دیتے چلے جاتے تھے۔