خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 387
خطبات طاہر جلد ۳ 387 خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۸۴ء کوئی جواز ہی کوئی نہیں اور یہ قانون تمہارا اپنا کیا حال کر دے گا اور کر رہا ہے۔ اس پر بھی غور کرو، ہم تمہیں نیک نصیحت کرتے ہیں وہ امت جوامت مسلمہ کے نام سے اس قانون کے نتیجے میں ابھرے گی اس کی شکل کیا ہوگی؟ احمدی تو اپنی سچائی کی وجہ سے چونکہ خدا کے قائل ہیں اور خوف رکھتے ہیں ، پتہ ہے ہم نے جان دینی ہے شدید تکلیفیں اٹھاتے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کا انکار نہیں کرتے اس لئے وہ تو کسی صورت میں اس مصنوعی تعریف کے اندر داخل ہو نہیں سکتے ان کے لئے رستے بند ہیں پہلے سے لیکن ایک دہریہ کے لئے تو یہ روک نہیں ہے۔ ایک دہریہ کو تو کھلی چھٹی ہے جو چاہے کہے اس لئے پاکستان میں اگر ایک کروڑ دہر یہ بھی ہو تو اس قانون کی رو سے وہ سچا مسلمان کہلائے گا۔ ایک دہریہ کے لئے کون سی مشکل ہے یہ لکھ دینا کہ مسیح موعود علیہ السلام جھوٹے ہیں جو دل میں خدا کو بھی جھوٹا سمجھتا ہو اس کا وجود ہی تسلیم نہ کرتا ہو سارے نبیوں کو وہ جھوٹا لکھوانا ہو اس سے لکھوا لیں گے اس کے لئے کون سی مشکل ہے! اگر تعریف یہ ہو سچا مسلمان ہونے کی کہ اول سے لے کر آخر تک جتنے نبوت کے دعویدار تھے سارے ہی جھوٹے تھے تو شوق کے ساتھ یہ جو دہر یہ ہیں یہ اس پر دستخط کریں گے کہ ہاں ہم مسلمان بنتے ہیں تو ایک حضرت مرزا صاحب کا انکار ان کے لئے کون سا مشکل ہے؟ تو عملاً یہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں احمدیوں کے سوا جتنے مسلمان پیدا ہوئے ہیں ان میں دنیا کو علم ہے یہ کون انکار کر سکتا ہے اس بات کا کہ ان میں دہر یہ شامل نہیں ہیں ۔ وہ سارے کے سارے مسلمان ہیں اس تعریف کی رو سے کیونکہ وہ جھوٹ بول سکتے ہیں۔ پھر جو عدالتوں میں جھوٹی گواہی دینے کا عادی ہو جو منفعت کے لئے اسلام کو نظر انداز کرنے کا عادی ہو اس کے لئے کون سا مشکل ہے جھوٹ بولنا تو قانون اب یہ بن گیا کہ جو سچے ہیں جو سچائی کے لئے قربانی دینے پر آمادہ ہیں اور ہر قسم کی قربانی کے اوہ تو منافق ہیں اور جب تک غیر منافق قرار نہیں دیئے جائیں گے جب تک جھوٹ کر ہمارے اندر داخل نہ ہوں اور جو جھوٹ بولتے ہیں ان پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں شوق سے آئیں اور مہریں لگواتے رہیں کہ تم مسلمان ہو تم بھی مسلمان ہو اور تم بھی مسلمان ہو۔ یہ نقشہ نیا ایک شریعت کا ابھر رہا ہے پاکستان میں اور کوئی خوف نہیں کر رہا اور پھر اس کا بڑے فخر سے پرو پیگنڈا کیا جا رہا ہے ساری دنیا میں ۔ تمام دنیا کی حکومتوں کو یہ لکھ لکھ کر بھیجا جا رہا ہے کہ یہ وجہ تھی ہم اس لئے مجبور ہو گئے تھے اپنی