خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 386 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 386

خطبات طاہر جلد ۳ 386 خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۸۴ء بن کر چور بن جائے۔ایسا پاگل پن بعض عقلوں کو تو نصیب ہوتا ہوگا لیکن عام دنیا کی عقلوں میں نہیں آ سکتا۔اگر یہ کہا جائے کہ فلاں چور کو حلوے تقسیم ہوں گے ، مٹھائیاں کھلائی جائیں گی اور گلے میں ہار ڈالے جائیں گے پھر تو بڑے چوری کے دعویدار پیدا ہو جائیں گے لیکن جہاں سزا ملتی ہو وہاں جھوٹے کا کام ہی کوئی نہیں وہ تو کوسوں بھا گتا ہے ایسے موقعہ سے جہاں سزا ملتی ہو۔تو احمدیت کی سچائی کے لئے تو خدا نے ایک بار بنادی ہے اور انہی کے ہاتھوں سے بنوائی ہے جو منافق کہہ رہے ہیں اور جو جھوٹ کا الزام لگاتے ہیں۔احمدیوں نے خود تو نہیں یہ باڑ بنائی اور یہ وہی باڑ ہے جو ہر نبی کے وقت بنائی جاتی ہے اور نبوت کی صداقت کا سب سے بڑا نشان بنتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے کون سا نعوذ باللہ جھوٹ بولا تھا وہ تو صِدِّيقًا نَّبِيًّا (مریم:۴۲) تھے۔نبی ہوتے ہی سچے ہیں پر ایسے بچے تھے کہ اللہ نے بار بار صدیق فرمایا۔کس منافقت کی سزا ملی اور اس کے بعد ایک کے بعد دوسرے نبی کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا۔ناممکن تھا کسی کے لئے اس جماعت تک پہنچنا جب تک آگ میں سے گزر کے نہ وہ جاتا ، پھولوں کی سیج تو نہیں تھی ہاں کانٹوں پر سے گزرنا پڑتا تھا۔تو منافق اس طرح پیدا ہوتے ہیں دنیا میں؟ ماریں کھاتے ، سزائیں لیتے شدید تکلیفوں میں مبتلا ہو کر پھر بھی مسکراتے ہوئے مزید تکلیفوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔بھٹی کوئی احمق انسان ہو گا جو ایسے شخص کو منافق کہے یا عقل کے پیمانے بدل جائیں، تاریخیں سب تبدیل ہو جائیں پھر ٹھیک ہے جو مرضی کرو لیکن عام دنیا کی عقل کے مطابق یہ شخص پاگل کہلائے جاسکتے ہیں زیادہ سے زیادہ اور انبیاء کو پاگل اسی لئے کہا جاتا ہے۔کہتے ہیں تم تو دیوانے ہو گئے ہو منافق نہیں کہہ سکتے۔پہلے لوگوں کو عقل تھی اب اتنی بھی باقی نہیں رہی۔قرآن سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے لوگوں نے جادو گر بھی کہا اور جھوٹا بھی کہ دیا اور پاگل بھی کہ دیا اور عاشق بھی کہہ دیا اپنے رب کا لیکن کبھی کسی نے منافق نہیں کہا کیونکہ منافقت کے یہ طور نہیں ہوا کرتے۔ہاں پاگل ہو جائے کوئی تو پھر تکلیفیں اٹھاتا ہے ضرور اس لئے یہ بات بھی نہایت ہی لغو اور بے معنی ہے کہ جماعت دھو کے سے لوگوں کو داخل کرتی ہے اپنے اندر اور اس دھوکے سے بچانے کی خاطر ان سے مسلمان کہلانے کا حق چھین لیا گیا ہے جو بھی آرہا ہے اس وقت احمدی ہورہا ہے وہ جانتا ہے کہ مجھ سے کیا ہوگا؟ مجھے غیر مسلم کہا جائے گا، گھروں سے نکالا جائے گا، مارا جائے گا، تکلیفیں دی جائیں گی پھر آتا ہے وہ اس لئے اس کو منافق کہنے کا تو تمہارے لئے