خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 383 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 383

خطبات طاہر جلد ۳ 383 خطبه جمعه ۲۰ جولائی ۱۹۸۴ء حقانی کتاب اور واجب العمل کتاب سمجھتے ہوئے بھی اس کی تکذیب کرو کہ جھوٹی ہے، یہ قابل عمل نہیں ہے اور یہ اعلان کرو کہ یوم حشر نشر سب کہانیاں اور قصے ہیں اور فرشتوں کا کوئی وجود نہیں ۔ یہ اعلان کرو یہ ورنہ قانون تمہیں سزا دے گا۔ یہ ہے وہ منافقت دور کرنے کا علاج جو اس قانون میں تجویز کیا گیا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ منافقت وہ ہے یا یہ منافقت ہوگی کہ قانون مجبور کر کے یہ باتیں کہلوا رہا ہو اور دل میں کچھ اور ہو تو منافقت کی تعریف ہی بدل دی ہے۔ تعریف یہ کی گئی ہے کہ جو دل میں ہے وہ اگر تم کہہ دو گے تو تم منافق اور جو دل میں نہیں ہے وہ کہو گے تو تمہاری منافقت دور ہوگی ۔ اس کا جواب بھی اس آیت میں موجود ہے اور ساتھ یہ کہ چونکہ تم جھوٹے ہو ہم تمہیں عمل نہیں کرنے دیں گے اب قرآنی تعلیمات پر عمل ہم نہیں کرنے دیں گے کیونکہ تمہارا تعلق ہی کوئی نہیں ، رشتہ کیا ہے تمہارا قرآن کریم سے جب ہم نے تمہیں غیر مسلم کہہ دیا تو اب تمہارا رشتہ ٹوٹ گیا قرآن کریم سے اس لئے یہ ساری باتیں جو میں نے بیان کی تھیں یہ قرآنی تعلیم ہے۔ تو حید، آنحضرت ﷺ کی صداقت کا اعلان ، قرآن کو سچ سچ سمجھنا، برحق سمجھنا ، واجب التعمیل سمجھنا، یہ ساری باتیں قرآن سے ہی تو ملی ہیں ہمیں ان میں سے ایک بھی ایسی نہیں ہے جو قرآن سے باہر ہو۔ صلى الله تو یہ اب نتیجہ نکالا جا رہا ہے کہ چونکہ ہم نے تمہیں غیر مسلم سمجھ لیا اور اعلان کر دیا اس لئے اب تمہارا قرآن سے تعلق ٹوٹ گیا ہے۔ اس شریعت پر تم عمل نہیں کر سکتے ، اس شریعت کی اصطلاحیں استعمال نہیں کر سکتے ، اس شریعت کی عبادت کے طریق اختیار نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ہماری ہوگئی اور ہم نے تمہیں اس شریعت سے نکال دیا اور قرآن کریم کے متعلق دیکھئے کہ وہ کیا کہتا ہے اس صورت حال میں؟ فرماتا ہے: وَإِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا (الحجرات : ۱۵) کہ اے منافقو ! جن کو ہم منافق کہہ رہے ہیں یعنی عرش کا خدا کہہ رہا ہے، اے وہ لوگو جن کے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا اس اعلان کے باوجود ہم تمہیں یہ بھی تسلی دیتے ہیں کہ غیر مومن ہوتے ہوئے منافق ہوتے ہوئے بھی اگر تم ایک بھی اچھا عمل کرو گے تو خدا اس عمل کو بھی ضائع نہیں کرے گا۔ یعنی قرآن پر عمل کرنے کی دعوت بھی ساتھ ساتھ دے رہا ہے۔ فرما رہا ہے کہ منافق ہو اور ساتھ دعوت نہیں بلکہ حکم دے رہا ہے تسلی دلا رہا ہے کہ ہاں پھر بھی آؤ اور قرآن سے فائدہ اٹھاؤ اور