خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 382 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 382

خطبات طاہر جلد ۳ 382 خطبہ جمعہ ۲۰ / جولائی ۱۹۸۴ء والا بنایا ہے لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرٍ (القافية : ۲۳) نہ زبردستی تو ان کو تبدیل کرے گا نہ تیری جواب طلبی کی جائے گی کہ کیوں تو نے زبردستی نہیں کی۔مصيطر کے دونوں معنی ہیں۔لیکن یہ داروغہ بن گئے اور دنیا کو کہتے ہیں کہ ہم کیسے اجازت دے سکتے ہیں ایک اسلامی ملک میں کہ منافق بس رہے ہوں اور وہ اپنے آپ کو مسلمان بنا رہے ہوں اور دنیا کو دھوکا دے رہے ہوں۔جو یقینی منافق تھے جن کے متعلق خدا نے گواہی دی تھی ان سے یہ سلوک کیوں نہیں ہوا سوال تو یہ ہے؟ ان کو کیوں اجازت دی گئی کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے رہیں؟ اور جو فرضی منافق ہیں ان سے یہ کیوں سلوک کیا جارہا ہے لیکن صرف یہی نہیں میں نے تو یہ عرض کی تھی کہ لغویات کا ایک پلندہ ہے یہ سارا قصہ۔امر واقعہ کیا ہے؟ منافقت دور کرنے کے لئے نہیں بلکہ منافقت پیدا کرنے کے لئے قانون جاری کیا گیا ہے۔چالیس لاکھ احمدی جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے اور یقین رکھتا ہے اس کو یہ قانون مجبور کر رہا ہے کہ اپنے منہ سے تم وہ کہو اپنے متعلق جو تم اپنے آپ کو نہیں سمجھتے۔یہ منافقت ہے یا وہ منافقت ہے کہ تم ان کو بے شک جھوٹا سمجھ رہے ہو لیکن اپنے آپ کو وہ مسلمان ہی سمجھ رہے ہیں۔پس ایسا شخص جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے اس کو کوئی دوسرا جو مرضی سمجھے فرق کیا پڑتا ہے یا تو اس دوسرے نے قیامت کے دن خدا کی جگہ بیٹھا ہونا ہو پھر تو فرق پڑ جائے گا لیکن اگر فیصلہ عالم الغیب نے کرنا ہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ہم تمہیں جو مرضی سمجھیں تم ہمیں جو مرضی سمجھو فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔لیکن اگر فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لئے جائیں تو پھر فرق پڑتا ہے اور اس قانون کی اب یہ شکل بن جاتی ہے کہ اگر کوئی احمدی اپنے آپ کو دل کی گہرائیوں کے ساتھ بھی مسلمان سمجھتا ہو جس کا معنی یہ ہے کہ توحید باری تعالیٰ کا قائل ہو ، فرشتوں کا قائل ہو، حشر نشر کا قائل ہو ، حضرت اقدس محمد مصطفی علی اللہ کی صداقت کا قائل ہو اور ان تمام اعمال کا قائل ہو جو اسلام نے فرض فرمائے ہیں ، قرآن کریم کی حقانیت کا قائل ہو اور یہ یقین رکھتا ہو کہ نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ یہ سارے فرائض ہیں ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔ایسے شخص کو یہ قانون کہے گا کہ ہماری نظر میں چونکہ تم منافق ہو اس لئے غیر مسلم ہونے کا اعلان کرو اور غیر مسلم ہونے کا اعلان ان ساری چیزوں کا برعکس ہے بالکل اس کے سوا غیر مسلم بن ہی کوئی نہیں سکتا یعنی قانون کہے گا کہ خدا کو واحد تسلیم کرتے ہوئے بھی کہو کہ میں اس کو ایک نہیں سمجھتا، محمد رسول کریم ﷺ کو سچا جانتے ہوئے بھی اعلان کرو کہ وہ نعوذ باللہ جھوٹے ہیں، قرآن کو سچی کتاب