خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 380 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 380

خطبات طاہر جلد ۳ 380 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۸۴ء وَلكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا لیکن تمہارا مسلمان کہلانے کا حق میں پھر بھی نہیں چھینوں گا۔یہ کہنے کے باوجود کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ تم ایمان نہیں لائے ہو ساتھ ہی ان کا خوف دور کرو۔اگر ان کو یہ خوف پیدا ہو جائے کہ اب شاید وہ مسلمان نہیں کہہ سکتے اپنے آپ کو تو کھل کر بتا دو۔قُولُوا أَسْلَمْنَا میں تمہیں کہتا ہوں جو اول المسلمین ہوں کہ تم کہہ سکتے ہو کہ ہم اسلام لے آئے۔وَلَكِنْ قُوْلُوْا أَسْلَمْنَاوَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ یہ کہو کہ ہم اسلام لے آئیں ہیں حالانکہ ایمان تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔اس سے بڑا منافق بھی کوئی متصور ہوسکتا ہے جس کے متعلق خدا گواہی دے آسمان سے اور اپنے سب سے برگزیدہ رسول کو خود بتائے۔اصدق الصادقین کو اطلاع دے رہا ہو کہ ایک یہ لوگ جو دعوی کرتے ہیں کہ ہم مومن ہیں ان کے دلوں میں ایمان نے جھانک کے بھی نہیں دیکھا لیکن ساتھ ہی یہ حکم بھی دیتا ہے کہ اس کے باوجود ان سے مسلمان کہلانے کا حق تم نے نہیں چھینا بلکہ اپنی زبان سے یہ کہو ہمیں علم ہے ایمان تمہیں حاصل نہیں ہوا تمہارے اندر داخل ہی نہیں ہوا پھر بھی خدا مجھے کہتا ہے کہ تمہیں کہہ دوں کہ تم مسلمان کہو اپنے آپ کو اس سے تمہیں کوئی نہیں روک سکتا۔تو جہاں تک یہ جو دعویٰ تھا کہ منافقت سے مسلمان بنتے ہیں اس لئے ہم نے ان کو روکا ہے۔یہ آیت کس طرح اس کو پارہ پارہ کر رہی ہے اس دعوے کو یعنی اس آیت کا پہلا حصہ یعنی سو چتے نہیں کہ آنحضرت علیہ کے زمانے میں قرآن کریم سے ثابت ہے کہ منافقوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ایک سورۃ المنافقون نازل ہوئی اس کے اوپر اور جگہ جگہ ان منافقین کا ذکر ہے تو آج ان کو پتا چلا ہے کہ منافقین سے کیا سلوک ہونا چاہئے؟ آنحضرت ﷺ کو علم ہی کوئی نہیں تھا جن پر قرآن نازل ہورہاتھا۔اس کثرت سے منافقین کا ذکر ہو اور ایک منافق کو بھی حضور اکرم ﷺ نے زبر دستی غیر مسلم کہنے پر اپنے آپ کو مجبور نہ کیا ہو بلکہ رئیس المنافقین وہ جو دل آزاری میں اس حد تک بڑھ گیا کہ آنحضرت کے متعلق ایک غزوہ سے واپسی پر اس نے یہ اعلان کیا کہ جو اس مدینہ اس شہر کا سب سے معزز شخص ہے وہ نعوذ باللہ من ذالک اس شہر کے سب سے ذلیل شخص کو نکال دے گا جب گھر پہنچے گا اور صحابہ جانتے تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے چنانچہ اس قدر ان کے خون میں جوش پیدا ہوا، اس انتہائی خوفناک ہتک کے اوپر اس گستاخی پر کہ ان کی تلوار میں بے نیام ہونے لگیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کچھ نہیں کہنا اس کو روک