خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 378 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 378

خطبات طاہر جلد ۳ 378 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۸۴ء فیصلہ کیا اس لئے اس فیصلہ میں بھی ہمارا قصور کوئی نہیں ، ہم نے تو ورثے میں پایا تھا یہ فیصلہ اور جب ہم نے ورثے میں یہ فیصلہ پایا کہ فلاں جماعت غیر مسلم ہے تو اس فیصلے پر نفاذ کروانا عمل درآمد کروانا ہمارا کام تھا وہ ہم نے کروایا ہے، اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ بات تو انہوں نے پہنچا دی لیکن اس کے اندر اتنی لغویات مضمر ہیں کہ جب وہ ہم دوسروں کو پہنچا ئیں گے اور پہنچا رہے ہیں تو کیسے کوئی یقین کر سکتا ہے کہ یہ دھو کہ لمبے عرصے تک چل سکتا ہے۔سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سب سے پہلے تو اسمبلی کی حیثیت سن لیجئے۔یہ وہ اسمبلی ہے جس کے اوپر خود پاکستان نے ایک وائٹ پیپر شائع کیا اور سارے اسمبلی کے ممبران کا منہ کالا کر دیا اس وائٹ پیپر کے ذریعے اور یہ اعلان کیا کہ ان میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں تھا کہ شریف انسان کہلا سکے۔مسلمان تو در کنار ایک عام شریف انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں، یہ لوگ فلاں بھی تھے، فلاں بھی تھے، جتنی بدیاں ہیں وہ ان لوگوں کے متعلق گنائی گئیں اور یہ چھپا ہوا پیپر موجود ہے اس لئے حکومت مجبور تھی یعنی نئی حکومت ایسی اسمبلی کو ختم کرنے پر اخلاقا پابند تھی۔اس اسمبلی نے جن کا یہ حال ہے آپ فرماتے ہیں کہ ایک قانون پاس کیا تھا شرعی اور اس کی شرعی حیثیت ہے کیونکہ اس اسمبلی نے جس میں سارے ملک کے نمائندے موجود تھے، نے یہ اعلان کیا جماعت احمدیہ غیر مسلم ہے۔تو ہم تو اس اسمبلی کے پابند ہیں اس لئے لازما ہم اس کی آگے بڑھ کر مزید پابندی کروائیں گے تو جس اسمبلی کی اپنی حیثیت یہ تھی کہ وہ شریف انسان کہلانے کی ان کے نزدیک مستحق نہیں تھی باہر کی دنیا کے نزدیک بے شک ہو اس کے فیصلے پر اس قدر سرتسلیم خم کرنا اور سر جھکا لینا یہ بڑے تعجب کی بات ہے اور مزید بات یہ کہ اس کے فیصلے کی حالت یہ ہے کہ سارا قانون جو بڑی محنت سے اس نے تیار کیا تھا اور دستور اساسی کی صورت میں ان کو دیا تھا وہ معطل اور ترمیم کی عزت افزائی ہو رہی ہے صرف یعنی 73 ء کا قانون تو معطل اور 74ء کی ترمیم جاری۔آخر کچھ تو احترام ہونا چاہئے نا اسمبلی کا۔یہ تو ویسی بات بنتی ہے کہ ایک عورت صبح اٹھ کر کھا رہی تھی سحری کے وقت کسی کو پتا تھا کہ وہ روزہ نہیں رکھتی ، اس نے کہا بی بی تم روزہ تو رکتی نہیں تو یہ آدھی رات کو اٹھ کے کھانا کیوں کھاتی ہو؟ اس نے کہا روزہ نہیں رکھتی تو کافر تو نہ نہ ہو جاؤں کچھ تو احترام کروں رمضان کا۔جہاں تک کھانے والا حصہ ہے وہ تو مجھے پورا کرنا چاہئے بہر حال۔چنانچہ افطاری بھی کرتی تھی سحری بھی کرتی تھی اور بیچ میں بھی کھانا کھاتی تھی تو یہ احترام ہے ان کے نزدیک اس اسمبلی کا کہ جس کی ساری بنائی گئی Constitution ( کانسٹی