خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 370 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 370

خطبات طاہر جلد ۳ 370 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۸۴ء ایسی عید ہمارے بعض خدا کی راہ کے قیدیوں پر بھی آئی اور ان میں سے دونو جوان جور بوہ کی حوالات میں تھے ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا خط ہے وہ میں آپ کو سناتا ہوں وہ کہتے ہیں ان دنوں ہم دونوں ربوہ حوالات میں ہیں اور خدا کی قسم آپ کی دعاؤں اور ایک کروڑ احمدیوں کی دعاؤں کی بدولت خدا وند کریم نے ہمارے لئے اس جگہ کو بھی جنت بنادیا ہوا ہے“۔یعنی جو باہر تھے ان کا وہ حال تھا اور جو خدا کی راہ میں قیدی تھے ان کو خدا نے ایک اور ہی منظر ایک اور ہی عالم میں پہنچا دیا تھا حالانکہ زندگی میں ہم نے آج تک ایسی جگہ کی شکل نہ دیکھی تھی۔شرفا تو نہیں جایا کرتے حوالات میں اور پولیس کے قبضے میں اور ان کے لئے سوال ہی کوئی نہیں تھا صرف وہ خدا کی راہ میں ایک دعویٰ کرنے والے پر ایمان لانا ان کا جرم تھا۔کہتے ہیں ” خداوند کریم نے ہمارے لئے اسی جگہ کو جنت بنایا ہوا تھا حالانکہ زندگی میں ہم نے آج تک ایسی جگہ کی شکل نہ دیکھی تھی مگر خدا تعالیٰ کو یہی منظور تھا اور آزمائش تو ڈالی مگر ہم میں اتنا حوصلہ اور استقامت بھی تو بخشی کہ ہمیں کسی قسم کی کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔حضور ہماری طرف سے آپ کو فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں بس صرف اور صرف اپنے غلاموں کے لئے خاص دعا کریں اور دعا کریں کہ خدا وند کریم ہمیں اس سے بھی مزید حوصلہ اور ہمت عطا فرمائے اور ہماری جان اور مال اور عزت سب راہ مولیٰ پہ قربان ہو۔حضور یہ لوگ ہمیں کسی خوف اور دکھوں سے دھمکا کر ہمیں اپنے دین سے ہٹا نہیں سکیں گے۔اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ احمدیوں کے ایمان کتنے مضبوط ہیں تو ان کی روحیں لرز جائیں۔شیر ہمیشہ شیر ہی رہتا ہے چاہے اسکو پنجرے میں بند کر دو اس کی دہشت پھر بھی رہتی ہے اور خدا کی قسم ہم احمدیت کے شیر ہیں۔“ ایک نوجوان نے ایک عجیب رنگ میں اپنی جان کی قربانی پیش کی ہے ویسے تو کثرت سے لوگ لکھ رہے ہیں لیکن اس نے تو معلوم ہوتا ہے گریبان پکڑ کر زبر دستی مجھے کہا ہے کہ میری قربانی لوور نہ کہتے ہیں کہ ایک خطبہ میں آپ نے فرمایا تھا کہ خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے خدام نے آپ کو لکھا ہے کہ جہاں جہاں جان کی قربانی کی ضرورت ہو ہمیں پہلے موقع دیا جائے۔حضور آپ پر میری جان بھی قربان مجھے بھی اس فہرست میں شامل کر لیں ، خدا کی قسم اگر آپ نے ہمیں اس فہرست میں شامل نہ کیا تو ہم قیامت والے دن یہ ضرور کہیں گے کہ آپ نے اپنے خاندان سے رعایت کی ہے۔“ مالی قربانی کے متعلق پہلے بھی میں بیان کر چکا ہوں۔یہ رد عمل ہے دل آزاری کا رد عمل، ایک