خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 369 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 369

خطبات طاہر جلد ۳ 369 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۸۴ء یہ نو جوان لکھتے ہیں، بلکتے بلکتے ماہ رمضان بھی بیت گیا ، روتے روتے عید بھی گزر گئی۔کس کرب اور دکھ کے دن تھے، یہ ربوہ کی فضائیں کس قدر بو جھل اور کس قدر مضطرب اور حزیں تھیں، ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے بھی تجھ سے بڑھ کر اس دکھ کو کون سمجھ سکتا ہے۔میں جانتا ہوں کہ ہر بھیگی ہوئی آنکھ کے ساتھ تو بھی نمناک تھا اور ہر مجروح دل کے ساتھ تو بھی تڑپ رہا تھا۔ہر زخمی روح کی پکار گویا تیرے قلب حزیں کی صدا تھی اور ہر در دبھر انغمہ گویا تیرے ہی ساز وجود سے اٹھتا تھا۔ہم حاضر ہیں ہمارے آقا ! ہم حاضر ہیں ہمارے آقا ! ذرے ذرے میں تبدیل ہونے کو ، ہر آگ کا ایندھن بنے کومگر تجھ تک گردنہ اٹھے، تجھ تک کوئی آنچ نہ آئے۔پھر لکھتے ہیں اور پھر دکھی عید ” عید تو ہے چاہے کردیا نہ کرو کے تحت گزر ہی گئی مگر آمدن عید مبارک بادت کی خوش خبری بھی دے گئی اور انہیں دکھوں کی کوکھ سے جنم لینے والی راحتوں کی یہ خوش خبریاں یہاں دلوں کو کس طرح گرما رہی ہیں کس طرح یہاں درد میں ڈوبی ہوئی آہیں بھی ہیں، غم میں بھیگے ہوئے آنسو بھی ہیں اور امید سے بھری ہوئی دعا ئیں بھی ہیں۔یعنی کوئی اہل نظر ہی جان سکتا ہے ربوہ کی اداس مگر پر عزم فضا میں کیا بچے ، کیا جوان ، کیا بوڑھے سبھی ایک ہی آگ میں جل رہے ہیں جو نہ جانے کس کس کو خاکستر کر دیگی اور کس کس کو کندن بنادے گی۔میں نے بڑے بڑے جابر لوگوں اور بے حس نو جوانوں کو بے طرح بلکتے اور مرغ بسمل کی طرح تڑپتے دیکھا ہے ، ان کے بھیگے ہوئے چہروں پر رنج وغم اور عزم اور امید کی ایسی گہری پر چھائیاں تھیں جو ہر گز قابل بیان نہیں۔ناسمجھ بچے بھی جس طرح اراد تا چیخ چیخ کر روتے اور دعائیں کرتے ہیں اس کا اندازہ کچھ اسی سے لگا لیجئے کہ جمعۃ الوادع کی نماز کے آخری سجدے بڑے رقت انگیز تھے۔لوگ حقیقتا ایسے تڑپ رہے تھے جیسے بکرے ذبح کئے جارہے ہوں۔میں نے محسوس کیا کہ میرے پہلو میں میرا آٹھ سالہ بیٹا منور بھی با آواز بلند رورہا تھا۔جب اس نے سجدے سے سراٹھایا تو اس کی سجدہ گاہ آنسوؤں سے تر تھی اور ان آنسوؤں کو اور واضح کرنے کے لئے اس نے اپنے بچپن میں ان میں لکیریں بھی کھینچ رکھی تھیں۔میں تڑپ گیا اور اپنے رب سے کہا کہ خدایا ان معصوم آنسوؤں کے صدقے ان تمام گڑ گڑاتے ہوئے سجدوں کو قبول فرمالے۔بعد میں وہ بچہ مجھے کہنے لگا ابو میں نے آپ کے لئے تو کوئی دعا نہیں کی امی کے لئے اور اپنے کسی دوست کے لئے بھی کوئی دعا نہیں کی میں صرف اپنے حضور کے لئے دعا کرتا رہا ہوں۔“