خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 368
خطبات طاہر جلد ۳ 368 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۸۴ء دل آزاری نہیں کر رہے؟ عجیب عقل ماری گئی ہے قوم کی ، بعد میں آنے والے لوگ حیران ہو کر دیکھیں گے کہ یہ وہ ہوا کرتے تھے ہمارے آباؤ اجداد یہ ان کی عقلیں تھیں۔ایک بچی لکھتی ہے، پیارے ابا حضور اس دفعہ عید پر عجیب سماں تھا، لاؤڈ سپیکر کی اجازت نہ ہوتے ہوئے بھی اتنے لوگ تھے کہ جگہ بہت مشکل سے ملی، ایک دوسرے کے قدموں پر سجدے کئے تھے اور منظر تھا کہ دیکھ دیکھ کر رونا آرہا تھا۔پیارے آقا اس دفعہ پتہ بھی نہیں چل رہا تھا کہ عید ہے۔ایک بچی لکھتی ہے کہ پیارے ابا حضور اس وقت عجیب سے جذبات ہیں جن کو الفاظ کا رنگ نہیں دے سکتی ہیں دل چاہتا ہے کہ ابھی میں قربان ہو جاؤں۔ایک اور عزیز لکھتی ہیں کہ خطبہ کی آواز نہیں آ رہی تھی اور عورتوں کا یہ حال تھا کہ زار و قطار روتیں اور اپنے رب کو مدد کے لئے پکار رہیں تھیں۔ایک ایسا دردناک منظر تھا کہ بیان سے باہر ہے۔ایک کہرام مچا ہوا تھا۔اس دردناک چیخ و پکار سے اس وقت عرش الہی کے کنگرے بھی ہل رہے ہوں گے۔ایک سلسلہ کی بزرگ خاتون لکھتی ہیں، آپ کے بغیر تو عید کا تصور ہی نہ تھا۔سارا ر بوہ عید پڑھنے پہنچا ہوا تھا مگر خطبہ کی آواز ایک محدود تعداد تک پہنچ سکی کیونکہ لاؤڈ سپیکر کا انتظام نہیں تھا بلکہ ایک حصہ تک تو ایک رکعت پڑھنے کی آواز نہیں پہنچی۔ایک پہرے دار نے تکبیر کہنی شروع کی تو دوسری رکعت پڑھی۔جو عورت ملتی تھی گلے لگ کر رونے لگ جاتی تھی۔یہ دل آزاریاں ہیں جو جماعت کر رہی ہے ، یہ اسلام کے خلاف سازشیں اور حرکتیں ہیں جو قانونا بند کی گئی ہیں کہ دل آزاری ہوتی ہے۔اتنی خطرناک سازشیں اسلام کے خلاف ! تم منہ کالا کر رہے ہو سارے اسلام کا (نعوذ بالله من ذلک ) نمازیں پڑھ کر، تکبیر میں کہہ کر ، اذانیں دے کر اور نمازوں میں پھر گر یہ وزاری کر کے اور پھر اس کو سنانا چاہتے ہو سب کو۔ایک نوجوان جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک بزرگ صحابی کے پوتے ہیں وہ لکھتے ہیں۔(حضور نے فرمایا ) یہ سارے خط تو میرے لئے ممکن نہیں یعنی جو خط چنے ہیں وہ بھی سارے پڑھ سکوں کیونکہ ان میں بعض جگہ جذبات کا اس شدت سے اظہار ہے کہ میرے لئے پڑھ کر سنا نا ممکن نہیں کہ جہاں جہاں میرا ذکر آجاتا ہے وہ مجھے کا ٹنا بھی پڑتا ہے بیچ میں سے مگر کہیں کہیں مجبور امضمون کو قائم رکھنے کے لئے پڑھنا بھی پڑتا ہے۔