خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 367
خطبات طاہر جلد ۳ 367 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۸۴ء ربوہ میں جس طرح رمضان گزرا، جیسے عید آئی اور چلی گئی اور جولوگوں کا حال ہوا اس کے او پر اتنے خطوط آ رہے ہیں، اہل پاکستان میں عموماً اور بوہ میں خصوصاً جو حال گزرے لوگوں پران سب کا بیان تو ممکن نہیں ہے مگر چونکہ ایک یہ تاریخ احمدیت کا قیمتی سرمایہ ہیں اس لئے چند نمونے میں آج آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔یہ ایذا رسانی جس کو وہ کہتے ہیں وہ کیا ہے اور اس کے مقابل پر وہ خود کیا کرتے ہیں اور پھر مومن کا رد عمل اس پر کیا ہوتا ہے مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ تو اتنا تفصیلی مضمون ہے کہ ہزار ہا خطوط ہیں سینکڑوں خطوط روز آرہے ہیں اور اکثر ان میں یہ مضمون ہوتا ہے۔تو ہزار ہا خطوط سے بھی زیادہ بن جاتے ہیں یعنی ہزار ہادر ہزار ہا ہیں۔ان کو سب کو جماعت کے سامنے پیش کرنا یہ تو اس وقت ممکن نہیں ہے اور بعضوں کے اقتباسات لئے ہیں لیکن اس کے ہم پلہ سینکڑوں اور ہیں جن کے اقتباسات لئے جاسکتے تھے اس لئے نام تو میں کسی کا بھی نہیں لوں گا لیکن جن کا نہیں آئے گا وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہمارے جذبات کو کم سمجھ کر چھوڑا گیا ہے، بے اختیاری کی بات ہے، ناممکن ہے کہ ساری جماعت کے جذبات کو اس طرح کھل کر پیش کیا جا سکے۔ایک بچی جو باہر سے آئی تھی رمضان گزارنے کے لئے ویکھتی ہے کہ آج کل میں رمضان گزار نے ربوہ آئی ہوئی ہوں کیونکہ ان کو ایک ماہ کی چھٹیاں بھی ہیں۔ربوہ میں آپ کی غیر موجودگی کا احساس اور بھی شدید ہوتا ہے۔اس دفعہ رمضان کے مہینے میں وہ رونق اور مزہ نہیں ہے جو اس سے پہلے ہوتا ہے۔پہلے دو دن تو بہت ہی عجیب لگا کہ ہم بغیر اذان کے روزہ رکھتے ہیں اور وقت دیکھ کر بغیر اذان کے ہی روزہ کھولتے ہیں۔انسان کی فطرت ہے کہ جو نعمت خدا تعالیٰ نے اس کو دی ہواس وقت اس کو اتنا احساس نہیں ہوتا جتنا کہ جب وہ چھن جائے تب۔یہی حال آج کل ہم سب کا ہے۔شادی سے پہلے کبھی ہم کہ دیا کرتے تھے کہ ربوہ میں ہر وقت صرف اذانیں ہی ہوتی ہیں لیکن اب پتہ چلا کہ ربوہ کی اصل خوبصورتی اور حسن انہیں چیزوں سے ہے کہ پانچوں وقت مسجدوں۔ނ اللہ تعالیٰ کا نام بلند ہو۔تو جو لوگ دل آزاری کرتے ہیں ہم یعنی جن پر الزام لگایا جاتا ہے ان کی دل آزاری کیا ہے کہ وہ اذانیں دیتے ہیں کہ وہ خدا کا نام بلند کرتے ہیں اس سے دل آزاری ہو رہی ہے اور جوان آوازوں کو گھونٹ رہے ہیں جو سینوں میں مچلنے لگ گئی ہیں اور گریہ وزاری میں تبدیل ہورہی ہیں۔وہ