خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 366
خطبات طاہر جلد ۳ 366 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۸۴ء اشتعال دلایا جارہا ہے، جن کے خلاف ہر قسم کے ظلم آزمائے جارہے ہیں ان کو غصہ ہی نہیں آتا ان کا رد عمل کیا ہوتا ہے؟ وہ آنحضرت علی کی صورت میں بتایا۔اللہ فرماتا ہے: فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا (الكيف : ) کہ اے محمد ﷺ تجھے کیا ہو گیا ہے کہ یہ جوا تنا ظلم کر رہے ہیں ، اس شدت کے ساتھ تیری تکفیر کر رہے ہیں اور کسی طرح ایمان نہیں لا رہے ظلم کی حد کر رہے ہیں ان کی خاطر تو اپنی جان ہلاک کر رہا ہے غم میں کہ یہ لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ایسا عجیب نقشہ ہے کہ انسان ، عام انسان کا تصور جس کو مذہب میں صیقل نہ کر دیا ہو اس بات تک پہنچ نہیں سکتا کہ یہ واقعہ ہوسکتا ہے۔یقین نہیں آسکتا ان کو۔چند دن ہوئے ایک پاکستان کے پرانے صاحب اثر دوست تھے وہ تشریف لائے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ آپ کی جماعت ہے ہی عجیب، میں بھی یقین نہیں کر سکتا کہ آپ کا ان باتوں کا یہ رد عمل ہو گا اس لئے حکومت بچاری کیا کرے اور صاحب اقتدار کیا کریں؟ وہ تو اپنے اوپر سوچتے ہیں۔ان کا تصور پہنچ ہی نہیں سکتا اس بات کو کہ دنیا میں کوئی ایسے شریف بھی خدا کے بندے بستے ہیں کہ ان کا وہ رد عمل نہیں ہو سکتا جو وہ سمجھتے ہیں اس لئے وہ ظلم کرتے ہیں پھر خوف کھاتے ہیں کہ ہم نے ظلم کیا ہے اور یہ ردعمل ہوگا پھر اور زیادہ ظلم میں بڑھتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ اس مقام کو پہنچ جاتے ہیں جہاں خدا کی پکڑ ان کو گھیر لیتی ہے اور پھر کوئی واپسی کا رستہ نہیں رہتا۔یہ جو دو مختلف تصویریں ہیں یہ آج پاکستان میں جس طرح نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آرہی ہیں ان کو دیکھ کر اگر کوئی بالکل عقل کا اندھا نہ ہو تو احمدیت کو قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں کوئی روک باقی نہیں رہنی چاہئے۔جس طرح حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے زمانے میں یہ دو تصویر میں نکھر کر ابھری تھیں ایک دوسرے کے ساتھ کچھ بھی مشابہت نہیں تھی اسی طرح حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کے غلاموں کو آج پھر توفیق ملی ہے کہ انہیں نقوش کو پھر ابھار دیں جنہیں آنحضور ﷺ اور آر کے غلاموں نے ابھارا تھا اور دشمنوں کو پھر تو فیق مل رہی ہے کہ پھر انہیں بدزیبائیوں کو، ان بدصورتیوں کونمایاں کریں جو پہلے دنیا نے دیکھیں تھیں اور جن کو خدا کی آنکھ نے رد کر دیا تھا ان کو اس قابل نہیں سمجھا تھا کہ وہ زندہ رکھی جائیں۔