خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 365 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 365

خطبات طاہر جلد ۳ 365 خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۸۴ء آ رہے ، غصہ ہی دلائے چلے جا رہے ہیں اور غصہ ہے کیا ؟ یہ کہ مر نہیں رہے، مٹ نہیں رہے ہم سے، ہم سارا زور لگا رہے ہیں لیکن یہ رہے ہیں لیکن یہ بڑھتے چلے جا رہے ہیں ۔ تو یہ خلاصہ کھینچ دیا کہ غصہ دلاتے ہیں اور ساتھ اس میں ان کا دفاع بھی فرمادیا۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا پہلے بھی بارہا کہ قرآن کریم دعوے کے ساتھ دلیل بھی بیان کر دیتا ہے۔ بہت سے لوگ جو سرسری نظر سے قرآن کریم کو دیکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں صرف دعویٰ کیا گیا ہے حالانکہ دلیل موجود ہوتی ہے ۔ لَشِرْ ذِمَةٌ قَلِيلُونَ کہہ کر انھوں نے اپنے اعتراض کا خودرو کر دیا۔ غصہ تو ان کو جرات ہوتی ہے دلانے کی جو بڑی بڑی قو میں ہوا کرتی ہیں وہ جذبات سے کھیلتے ہیں ، وہ لوگوں کے احساسات کو کچلتے ہیں اور غصہ دلاتے چلے جاتے ہیں اور پرواہ نہیں کرتے کیونکہ ان کو گھمنڈ ہوتا ہے اپنی طاقت کا لَشِرْ ذِمَةٌ قَلِيلُونَ بیچاری کہاں سے غصہ دلائے گی تو لَشِرْ ذِمَةٌ قَلِيلُون کہہ کر مومنوں کا دفاع بھی فرما دیا ساتھ ہی کہ تم جن کو گندہ سمجھ رہے ہو، جن کو غصہ دلانے والا کہہ رہے ہو ساتھ ہی یہ بھی تو کہہ رہے ہو کہ ایک پڑی کی حیثیت ہے ان کی اور پھر کہتے ہو غصہ دلاتے ہیں۔ تو عقل کے خلاف باتیں کر رہے ہو تمہارا دعوئی تمہارے خود اپنے دعوے کی تردید کر رہا ہے ۔ ایک طرف تو غصہ دلانے کی نہایت ہی عمدہ تشریح فرمادی اور امتیاز کر دیا ، مومن کے غصہ دلانے میں اور کافر کے غصہ کو دلانے میں ۔ سچ اس طرح غصہ دلایا کرتا ہے اور جھوٹ اس طرح غصہ دلایا کرتا ہے اور دوسری طرف یہ بتادیا کہ سچ مشتعل ہوتا ہی نہیں باوجود اس کے کہ غصہ دلانے کے سارے ذرائع باطل اختیار کرتا ہے اور اس کے باوجود سچ مشتعل نہیں ہوتا ۔ اس کی سرشت میں اشتعال نہیں ہے اور باوجود اس کے کہ غصہ دلانے کا کوئی طریق بھی مومن اختیار نہیں کرتا دشمن مشتعل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کو سارے انبیاء کی تاریخ دوہرا رہی ہے ان معنوں میں کہ کچھ لوگ ناری وجود ہیں اور کچھ نورانی وجود ہیں یا پانی کے اور مٹی کے بنے ہوئے۔ مٹی کو تو آگ نہیں لگ سکتی جو گوندھی ہوئی مٹی ہو اور جو ناری وجود ہے اس کو دیا سلائی دکھاؤ یا نہ دکھاؤ جلتی رہے گی وہ چیز ، اس وجود کی سرشت میں جلنا ہے۔ تولیغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ میں یہی مضمون بیان فرمایا کہ ان کو دیکھتے ہیں اور وہ غیظ پکڑ جاتے ہیں، مشتعل ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی سرشت میں مشتعل ہونا ہے اور جن کو