خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 364
خطبات طاہر جلد ۳ 364 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۸۴ء اور ہوتا ہے۔باطل اور وجوہات مشتعل ہوتا ہے اور حق اور وجوہات سے مشتعل ہوتا ہے اور پھر دونوں کے دل آزاری کے رد عمل بھی مختلف ہوتے ہیں۔چنانچہ متعدد قرآنی آیات میں یہ مضمون بکھرا ہوا ہے۔ایک طرف تو وہ لوگ جو مومن کو دیکھ کر مشتعل ہو جاتے ہیں ان کے اشتعال کی اندرونی کیفیت کا تجزیہ یوں فرمایا گیا کہ جب وہ ان کو نشو و نما پاتے دیکھتے ہیں، جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ ہر صورت بڑھ رہے ہیں اور ہماری کوئی تدبیر کارگر نہیں ہورہی اس سے ان کو اشتعال آتا ہے چنانچہ فرمایا: لِيَغِيظُ بِهِمُ الْكُفَّارَ (اف:۳۰) ایک بہت ہی خوبصورت طرز بیان ہے۔یہ نہیں کہا گیا کہ مومنوں کی بعض حرکات کے نتیجہ میں اُن کو غصہ آتا ہے۔فرمایا لِيَغِيظُ بِهِمُ الْكُفَّار مومنوں کو دیکھ کر غصہ آتا ہے یعنی ان کے وجود سے غصہ آتا ہے۔اب وجود تو کوئی جرم نہیں ہے لیکن ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوسکتیں ،ان کے سینوں کی آتش بجھ نہیں سکتی جب تک مومنوں کو وہ چلتا پھرتا دیکھ رہے ہوں اس لئے لِيَغِيظُ بِهِمُ الْكُفَّار میں اتنا گہرا فلسفہ اتنے مختصر الفاظ میں بیان فرما دیا کہ اس سے زیادہ اس اشتعال انگیزی کی تعریف ممکن نہیں ہو سکتی۔فرمایا مومن تو ضرور اشتعال دیتا ہے یہ نہیں کہ مومن اشتعال نہیں دیتا مگر اپنی حرکتوں کے ذریعے نہیں اپنے وجود کے ذریعہ اور غیر مطمئن ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ مومن کا چلتا پھرتا وجود اسکو نظر آرہا ہے جب تک وہ وجود نہ مٹ جائے اس کے دل کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو سکتی اور اس کے برعکس مومن کی جو دل آزاری کرتا ہے اس کی تصویر حضرت آدم سے لے کر آنحضرت محمد مصطفی علیہ کے زمانے تک سارے انبیاء کی تصاویر کھینچ کر جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے بڑی تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے۔کوئی ذریعہ ایسا نہیں چھوڑ تا دشنام طرازی کے ذریعہ یا بدنی سزاؤں کے ذریعہ یا سازشوں کے ذریعہ جتنے بھی ذریعے انسان کے لئے ممکن ہیں دکھ دینے کے وہ ذریعے اختیار کرتا ہے اور پھر بھی شکوہ رہتا ہے کہ یہ چند لوگ یہ ہمیں مشتعل کرتے ہیں۔لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ (الشعراء:۵۵) حضرت موسیٰ کے مقابل پر فرعون نے یہ کہا اور اس کے ساتھیوں نے کہ تَشِرُ ذِمَةٌ قَلِيلُونَ ہے، یہ عجیب خبیث چیز ہے، یہ قوم کہ تھوڑی سی ہے، چھوٹی سی ہے لیکن اتنا ناز ہے اپنی طاقت پر اور اپنے خدا پر کہ تھوڑی سی ہو کر بھی ہمیں غیظ دلاتے ہیں۔ان کی مجال کیا ہے! ان کی حیثیت کیا ہے! پاؤں تلے ہم ان کو چل دیں اور تھوڑے سے لوگ یہ باز ہی نہیں