خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 363 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 363

خطبات طاہر جلد ۳ 363 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۸۴ء مخالفت اور ابتلا میں احمدیوں کا جذبہ قربانی (خطبه جمعه فرموده ۱۳ جولائی ۱۹۸۴ء بمقام مسجد فضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کریمہ کی تلاوت فرمائی: رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلْإِ يُمَانِ اَنْ مِنُوا بِرَبِّكُمْ فَأَمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَّاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ رَبَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيِّمَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ المِيعَادَ ( آل عمران: ۱۹۴-۱۹۵) پھر فرمایا: قرآن کریم کا ایک نام الفرقان بھی ہے یعنی ایک ایسی یہ کتاب ہے جو ایسے کھلے کھلے اور روشن نشانوں سے اور امتیاز کرنے والے دلائل سے بھری ہوئی ہے جو بینات کی صورت ہیں جیسے دن اور رات میں تمیز مشکل نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ کوئی اندھا ہو۔اسی طرح حق اور باطل کی تمیز ایسی نمایاں کر دیتا ہے کہ سوائے ان لوگوں کے جن کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوں ان کے لئے حق کو باطل سے الگ کر کے دیکھنا مشکل نہیں رہتا۔ان دلائل میں سے جو حق اور باطل کے امتیاز کے قرآن کریم پیش فرماتا ہے ایک دلیل یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ حق والوں کی دل آزاری کا تصور اور ہوتا ہے اور باطل والوں کی دل آزاری کا تصور