خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 357
خطبات طاہر جلد ۳ 357 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۸۴ء یعنی ایک مدت تک ہم نے صالح علیہ السلام کو اور اس کے ساتھیوں کو آزمایا اور خدا کے نام پر انہیں کئی قسم کی تکالیف دی گئیں لیکن پھر وہ وقت جب آیا جب خدا کے فیصلے نے ظاہر ہونا تھا امرنا سے مراد یہ ہے کہ ہم نے جس دن اپنے فیصلہ کو ظاہر فرمانا تھا جب وہ وقت آیا تو ہم نے صالح کو بھی اور اس کے تمام ساتھیوں کو بھی اپنے فضل سے اپنی رحمت سے نجات بخش دی۔مِنْ خِزْيِ يَوْ مِينِ اس دن کی ذلت سے نجات بخشی۔پس یہاں قومی اور عزیز کے اجتماعی معنی اکٹھے دکھائے گئے ہیں یعنی وہ دن جو ہار اور جیت کا دن ہے وہاں قوت کو بھی ظاہر ہونا پڑتا ہے اور عزت کے مضمون کو بھی ظاہر ہونا پڑتا ہے اور اس دن صرف قوت ہی عطا نہیں ہوتی بلکہ اتنی نمایاں فتح ایسی عزت نصیب ہوا کرتی ہے کہ دشمن بالکل خائب و خاسر اور ذلیل ہو جایا کرتا ہے۔پھر ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض دفعہ لوگ جتھے بنا کر حملے کر کے آتے ہیں اور اس کے مقابل پر میرے بندے بالکل کمزور اور نہتے ہوتے ہیں اور بڑا سخت خوف کا مقام پیدا ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ خدا ان کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنا دفاع کریں اور کمزوروں کو طاقتوروں پر غلبہ نصیب فرماتا ہے لیکن فرماتا ہے کہ بعض ایسی حالتیں بھی ہوتیں ہیں کہ ان کو میں نہ لڑنے کی اجازت دیتا ہوں اس وقت نہ ایسا موقع پیدا کرتا ہوں بلکہ خدا خودان کی خاطر لڑتا ہے اور بجائے اس کے کہ ان کے ہاتھوں دشمن شکست کھائے اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان مخفی ، نہ نظر آنے والی قوتوں کے ذریعے دشمن شکست کھا جاتا ہے۔چنانچہ فرمایا: وَرَدَّ اللَّهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا وَكَفَى اللهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًان (الاحزاب : ۲۶) کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو بہت غیظ کے ساتھ بہت غصے کے ساتھ اور جوش دکھاتے ہوئے میرے بندوں پر حملہ آور ہوئے تھے ان کو اس حالت میں رد فر ما دیا ، لوٹا دیا کہ وہ اپنا غیظ اپنے ساتھ ہی لے کے لوٹے یعنی ان کو غیظ نکالنے کا موقعہ عطا نہیں ہوا ، وہ اپنی حسرتیں لے کر واپس لوٹ گئے کہ ہم نے تو یہ کرنا تھا وہ کرنا تھا اور یہ یہ ظلم ڈھانے تھے ، اس طرح اپنے سینوں کو ٹھنڈا کرنا تھا لیکن جو آتش غیظ ان کے سینوں میں بھڑک رہی تھی وہ اسی طرح بھڑکتی رہ گئی اور اپنی اس آگ کو واپس لے کر لوٹ