خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 354 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 354

خطبات طاہر جلد۳ 354 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۸۴ء اندر بڑی گہری حکمتیں ہوتی ہیں۔صفات باری تعالیٰ کے مضمون پر آپ غور کریں تو قرآن کی بہت سی آیات جو ویسے آپ کو سمجھ نہیں آئیں گی صفات باری تعالیٰ کی کنجی سے حل ہوتی ہوئی دکھائی دیں گی۔عزیز میں ساتھ یہ بتایا گیا کہ عزت خدا کے لئے ہے اور ہر عزت خدا کے لئے ہے۔عزت کے ساتھ قرآن کریم ایک دوسری جگہ فرماتا ہے کہ ہر عزت خدا کے لئے ہے تو مراد ہوا کہ عزیز میں کوئی ایک پہلو نہیں ہے بلکہ مختلف پہلو ہیں اور عزت کی جتنی قسمیں ہیں ان سب قسموں سے ان کو غلبہ نصیب ہوگا کیونکہ عزیز خدا ظاہری قوت کے لحاظ سے بھی عزیز ہے اور باقی تمام قوتوں کے لحاظ سے بھی عزیز ہے مثلاً ایک انسان جسمانی طور پر تو قوی ہو سکتا ہے کہ انفرادی قوت ہے لیکن قومی اعتبار سے وہ قوی نہیں ہوتا اس کی قوم کمزور ہوتی ہے اور کمزور قوم کو دیکھ کر لوگ اس کو ذلیل ورسوا کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت صالح علیہ السلام کے متعلق جو آیت میں نے پڑھی ہے اس میں اس کا برعکس مضمون بتایا گیا ہے کہ صالح کی قوم معزز اور طاقت ور تھی لیکن بعض انبیاء کی قو میں اپنی تو بہر حال طاقتور اور معزز ہوتی ہیں اُن کے ماننے والوں کی قومیں معزز اور طاقت ور نہیں ہوتی تو ایسی صورت میں ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور ان کے ماننے والوں کو ذلیل ورسوا کیا جاتا ہے اور یہ دنیا دار یہ فرق کر کے دکھاتے ہیں۔مکہ کی زندگی میں یعنی مکی دور میں آنحضرت ﷺ کے صحابہ دو حصوں میں منقسم ہو گئے تھے ایک وہ تھے جن کی قومیں ذاتی طور پر جن کے ساتھ ان کا تعلق تھا جن قوموں کے ساتھ وہ قو میں قوی تھیں اور عزیز تھیں نیچے ان قوموں کے افراد کے ساتھ بھی عزت کا سلوک ہو رہا تھا با وجود اس کے کہ وہی بات کہتے تھے جو اس قوم کے غریب کہتے تھے یعنی ایک وقت میں ایسی حالت آتی تھی کہ حضرت ابو بکر تو عزت اور شرف کے ساتھ سراٹھا کر پھر رہے ہیں لیکن بلال کوگلیوں میں گھسیٹا جارہا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جو بظاہر کمزوری کی حالت ہے یہ جو سمجھا جا رہا ہے کہ تمہاری قوم کمزور ہے جن لوگوں سے تم وابستہ ہو وہ کمزور ہیں۔اگر ایسی حالت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کمزوری کی حالت کو بھی عزت میں تبدیل کر دے گا یعنی مراد یہ ہے کہ ایسے عزیز سے تمہارا تعلق ہو گیا ہے کہ ہر ماننے والے ہر تعلق والے کی ہر ذلت کو عزت میں تبدیل کیا جائے گا اور غلبے میں تبدیل کیا جائے گا۔اسی طرح بادشاہ ہوتے ہیں جو قوموں سے بڑھ کر عزت پاتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ