خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 352 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 352

خطبات طاہر جلد۳ 352 خطبه جمعه ۶ رجولائی۴ ۱۹۸ء جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات میں اس لفظ کو قوت کے طور پر یا قومی کے طور پر مختلف جگہوں پر استعمال فرمایا گیا مختلف صفات کے ساتھ استعمال فرمایا گیا۔اس کے جو معنی کھل کر سامنے آتے ہیں وہ چار ہیں۔قومی سے مراد محض جسمانی طور پر قوی نہیں ہے بلکہ قوت کا لفظ چار حالتوں کے او پر بولا جاتا ہے اور قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔جسمانی قوت ، اخلاقی قوت، نفسیاتی قوت، اخلاقی اور نفسیاتی کو آپ ایک ہی شمار کرلیں کیونکہ در اصل مختلف طرز بیان ہے تو نفسیاتی قوت ہی کہنا چاہئے بنیادی طور پر جب Develop ہوتی ہے، تربیت اور تعلیم پاتی ہے تو پھر اسے اخلاقی قوت کہہ دیا جاتا ہے۔تو اول جسمانی قوت ، دوسرے اخلاقی قوت اور تیسرے فکری اور نظریاتی قوت ذہن اور عقل کی قوت، اور چوتھے روحانی قوت۔تو ان چاروں کے اوپر قرآن کریم سے ثابت ہے کہ قوت کا استعمال ہوا ہے۔پس جب خدا کی ذات میں قومی کا لفظ استعمال ہوگا تو نفسیاتی طور پر تو ہم نہیں کہہ سکتے لیکن بالا رادہ کہیں گے وہ اپنے ارادے اور عزم میں قوی ہے وہ اس لحاظ سے قوی ہے کہ جو چاہے کر کے دکھا سکتا ہے، وہ اس لحاظ سے قومی ہے کہ اس کے ارادوں پر کوئی تزلزل نہیں آتا ، وہ اس لحاظ سے قوی ہے کہ اس کی صفات بہترین اخلاق کا مظاہرہ کرتی ہیں اور اس کی صفات میں کوئی بدزیبی نہیں ہے اور ہر صفت اپنے حسن کے اعتبار سے قوت رکھتی ہے اور اس کی کسی صفت پر حسن کے اعتبار سے کوئی زوال نہیں آتا اور فکر اور تدبر کے لحاظ سے وہ قوی ہے۔اسی کی فکر ، اسی کا تدبر، اسی کی ترکیب، اسی کی تدبیریں دنیا میں قوت کے ساتھ جلوہ نما ہوتی ہیں اور اس کے مقابل پر کوئی قوت اور کوئی تدبیر کام نہیں کرتی۔تو یہ چاروں معانی قوی میں پائے جاتے ہیں۔اس کے ساتھ عزیز کا لفظ کیوں رکھا گیا اس میں بھی ایک حکمت ہے کیونکہ بعض دفعہ قوی ایک ایسے شخص یا ایسی ذات کو بھی کہہ دیا جاتا ہے اور اس سے قوت کا مظاہرہ ہوتا ہے جو غلط موقع پر ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں بظاہر ایک انسان قوی ہوتا ہے لیکن ذلیل ہو جاتا ہے۔اس کی قوت میں بھی ذلت پائی جاتی ہے یعنی ایک کمزور ایک معصوم انسان کو ایک طاقت ور جب کچلتا ہے، رگیدتا ہے ، اس کو ذلیل ورسوا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو قوی تو بظاہر وہی ہے لیکن ذلیل بھی وہی ہے اور ایسے شخص کو عزیز نہیں کہہ سکتے۔تو خدا تعالیٰ نے جہاں اس موقع پر قومی کا لفظ استعمال فرمایا وہاں ساتھ عزیز بھی فرما دیا کیونکہ عزیز میں جو غلبہ ہے وہ دراصل براہ راست اس کے معنوں میں نہیں پایا جا تا بلکہ عزت کے لفظ