خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 345
خطبات طاہر جلد ۳ 345 خطبه جمعه ۲۹ جون ۱۹۸۴ء ساری ایسی چیزیں ہیں جو ساتھ ساتھ ان زخموں کو مندمل کرتی چلی جاتی ہیں ورنہ جس قسم کے حالات میں سے جماعت گزر رہی ہے وہ کوئی زندہ رہنے والے حالات نہیں ہیں ۔ یہ جماعت کا اخلاص ہی ہے جو بچائے چلے جا رہا ہے، سہارے دیتا چلا جا رہا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ شعر یاد آ جاتا ہے کہ ه ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا ایک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا سرمه چشم آر یه روحانی خزائن جلد ۲ صفحه (۵۲) تو بیک وقت غم اغیار بھی ہے اور دلبرا کی پیاری نگاہیں بھی ہیں جو غم اغیار کے جھگڑے کو کاٹتی چلی جاتی ہیں۔ ایک انگلستان کی بچی کے ذکر کے بعد میں اس مضمون کو فی الحال ختم کرتا ہوں۔ بچیوں کا بھی یہ تو ذکر آنا چاہئے کہ احمدی بچیاں کس مزاج کی ہیں ۔ ایک بچی لکھتی ہے کہ یہ جو پاؤنڈ ہے، ایک پاؤ نڈ یہ مجھے فلاں وقت حضرت چھوٹی آپا نے انعام دیا تھا اور یہ جو پیسے ہیں یہ سیدہ مہر آیا جب آئی تھیں تو انہوں نے انعام دیا تھا اور یہ جو پیسے ہیں یہ طاہرہ صدیقہ جب تشریف لائیں تھیں پچھلی دفعہ تو انہوں میری حسن تلاوت یا حسن قراءت پر انعام دیا تھا اور یہ جو پیسے ہیں یہ سکول نے مجھے اچھی تقریر پر انعام دیا تھا اور یہ جو پیسے ہیں یہ مجھے فلاں وقت انعام میں دیا تھا اور میں نے سب جمع کئے ہوئے تھے، اب تحریک سن کے میں سارے پیش کر رہی ہوں لیکن اس التجا کے ساتھ کہ دعا یہ کریں اب کہ آئندہ جب بھی مجھے خدا دیا کرے میں تھوڑے سے اپنے پاس رکھ لیا کروں باقی سارے خدا کی راہ میں پیش کر دیا کروں۔ عجیب نمونے ہیں جو میں کہہ رہا تھا کہ نئے سنگ میل رکھے جارہے ہیں اس میں کوئی مبالغہ نہیں ۔ چھوٹی سی عمر کی بچی اس کے جذبات کا اندازہ کریں کہ کس طرح خدا کی راہ میں پیش کر رہی ہے اور پھر یہ تمنا لے کر آتی ہے، درخواست یہ کر رہی ہے کہ آئندہ بھی ساری زندگی کے لئے میرے لئے یہ دعا کریں کہ تھوڑا سا اپنے پاس رکھا کروں باقی سارا اپنے اللہ کی راہ میں پیش کر دیا کروں۔ تو جماعت جس درد کے دور سے گزر رہی ہے اس کے ساتھ انعام بھی تو نازل ہو رہے ہیں خدا کے ، دن بدن لمحہ بہ لمحہ اس جماعت کی کایا پلٹ رہی ہے۔ نئی رفعتیں حاصل ہو رہی ہیں۔ آج