خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 344 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 344

خطبات طاہر جلد ۳ 344 خطبه جمعه ۲۹ جون ۱۹۸۴ء صلى الله ۔ عروسه ہو۔ کتنی عجیب کتاب ہے! کیسا عظیم کلام ہے اور کیسے عظیم ہمارے آتا ہیں محمد مصطفی ﷺ کہ جس حالت میں بھی ہمیں وہ خدا پاتا ہے آپ کی غلامی میں ہم پر رحمت اور فضل ہی کی نظر ڈالتا ہے۔ ایک اور بچی کے متعلق اطلاع ملی کہ نئی نئی دلہن پاکستان سے آئی تھی اور زیورات جو دیئے تھے اس کی خواہش تو یہی تھی کہ جاؤں گی خاوند سے ملوں گی تو زیورات پہن کر سچ کر پھر مجالس میں جایا کروں گی تو جب اطلاع ملی تو ابھی اس نے زیور پہنا نہیں تھا کوئی ۔ چنانچہ ایک دفعہ بھی نہیں پہنا سارا زیور اسی وقت جماعت کی خدمت میں پیش کر دیا اور پھر ایسے جو قربانی کرنے والے ہیں وہ اپنے اوپر کوئی رحم نہیں کرتے یعنی یہ خیال نہ کریں کہ وہ بڑے درد محسوس کرتے ہیں کہ ہم سے یہ کیا ہو گیا ہمارے ہاتھ خالی ہو گئے کیونکہ جو خط آتے ہیں اس میں اصل لطف کی بات یہ ہے وہ اتنے پیار اور محبت سے اپنے خالی ہاتھوں پر نظر ڈالتی ہیں عورتیں پھر جب شیشوں میں دیکھتی ہیں اپنے چہروں کو کہ وہاں جھومر نہیں ہے کوئی، کوئی بندے باقی نہیں رہے، کوئی بالی باقی نہیں رہی تو بڑا ہی سرور حاصل کرتی ہیں کہتی الْحَمْدُ لِله یہ ہے زینت جو خدا کی راہ میں ہمیں نصیب ہوئی ہے۔ تو یہ ایک ایسی جماعت ہے جس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ ساری کائنات میں جماعت احمد یہ جیسی آج کوئی جماعت نہیں ہے یہ خلاصہ ہے کا ئنات کا۔ کیسے ممکن ہے کہ خدا اس جماعت کو مٹنے دے؟ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ بڑے بڑے متکبر آئے ہیں پہلے بھی مٹانے کے لئے اور خود مٹ کر صفحہ ہستی سے غائب ہو گئے اور بھی بہت آئیں گے کیونکہ جماعت کا جو رستہ ہے یہ تو رستہ ہی قربانیوں کا رستہ ہے لیکن یہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان بندوں کو خدا نہیں مٹنے دے سکتا جن کے اندر خدا کی محبت اس طرح ٹھاٹھیں مار رہی ہو اور جو کچھ خدا نے دیا ہو وہ پیش کرتے ہوں اور پھر روتے ہوں کہ ہم پیش کچھ بھی نہیں کر سکے۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بہت سے خطوط ہیں اس کثرت سے روزانہ آتے ہیں کہ جو زخم غیر لگاتے ہیں وہ ان کے اوپر لگتا ہے پھاہا رکھ رہے ہیں یعنی بیک وقت ایسی اطلاعیں ملتی ہیں کہ جماعت کے دوستوں کے اوپر ظلم ہورہا ہے، احمدیت پر مظالم ہور ہے ہیں جس سے سینہ چھلنی ہو جاتا ہے اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی یہ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے اس قسم کے نمونوں کے ساتھ کہ جماعت کے اندر جو اخلاص بڑھ رہا ہے پہلے سے محبت بڑھتی چلی جا رہی ہے، قربانی کی روح بڑھتی چلی جارہی ہے جس طرح وہ اظہار کرتے ہیں اپنا سب کچھ خدا کی راہ میں پیش کرنے کی تمنائیں لے کر آتے ہیں وہ