خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 343 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 343

خطبات طاہر جلد ۳ 343 خطبہ جمعہ ۲۹/ جون ۱۹۸۴ء جہاں تک دیگر قربانیوں کے نمونوں کا تعلق ہے اس لحاظ سے بھی خدا کے فضل سے جرمنی پیچھے نہیں ہے بلکہ بعض بڑے دلچسپ ایمان افروز واقعات پہنچ رہے ہیں۔مثلاً ایک نوجوان آئے ہوئے تھے میٹنگ کے سلسلے میں فرینکفرٹ اور وہیں ان کو اطلاع ملی کہ یورپ کے لئے تحریک ہوئی ہے، اس سے پہلے ان کے وکیل کی چٹھی آچکی تھی کہ تمہارا جو کیس چل رہا ہے عدالت میں اس کی میری دو ہزار مارک فیس ہے وہ تیار رکھو کیونکہ اس کے بغیر وہ کیس نہیں چلے گا تو دو ہزار مارک ہی ان کے پاس تھا اس وقت انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں نے تو اب اس تحریک میں حصہ لینا ہی ہے دیکھا جائے گا ملک مجھے باہر نکالتا ہے یا رہنے دیتا ہے ، وکیل کی فیس دے سکوں یا نہ دے سکوں۔کانوں میں آواز پہنچ گئی ہے اس لئے میں نے بہر حال یہ روپیہ دے دینا ہے۔چنانچہ وہاں سے وہ دے کر اٹھے اور واپس جانے کے بعد ان کو وکیل کی طرف سے چٹھی آئی کہ تم بالکل فکر نہ کر وحکومت نے تمہاری طرف سے فیس ادا کر دی ہے۔عجیب اللہ کی شان ہے اس لئے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ دل کی کیا کیفیت تھی قربانی کے وقت اور خدا تعالیٰ کس حالت میں انسان کو پاتا ہے اور کس طرح اس پر رحمت کی نظر فرماتا ہے؟ ہم تو جوا طلائیں ملتی ہیں ان سے اندازہ لگاتے ہیں مگر خدا عالم الغیب ہے عالم الشہادۃ ہے ہر چیز پر نظر رکھتا ہے یہ یقینی طور پر ایک ضمانت ہے کہ خدا کسی قربانی کرنے والے کی کسی محسن کی قربانی کو ضائع نہیں فرمائے گا بلکہ بندے اسے ہمیشہ غفور اور رحیم پائیں گے۔ایک جرمنی میں ایک احمدی دوست نے چٹھی لکھی مبلغ کو وہ انہوں نے پھر مجھے بھجوادی۔اس میں ایک عجیب نقشہ کھنچا ہوا تھا جو کچھ ان کے پاس تھا وہ تو انہوں نے چندے میں دے دیا اور واپس جا کر ساتھ ٹیپ لے گئے ، کیسٹ ایک خطبہ کی جس میں قربانی کرنے والوں کا ذکر تھا اور اپنی بیوی کوسنانی شروع کی۔وہ معلوم ہوتا ہے غریب لوگ ہیں زیادہ ان کے پاس زیور نہیں تھا خاتون کے پاس لیکن انہوں نے جو نقشہ کھینچا ہے وہ بڑا ہی دردناک ہے۔کہتے ہیں وہ ٹیپ سنتی جاتی تھی اور بلک بلک کے رو رہی تھی کہ کاش میرے پاس بھی ہوتا تو میں پیش کرتی اور جو ہے وہ اتارتی جاتی تھی ساتھ ساتھ اور بالکل خالی ہوگئی۔یہ جو کچھ ہے یہ تو فوراً بھجواؤ لیکن میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ کاش میرے پاس ہوتا یہ تو پیش کرنے والی چیز کوئی نہیں ہے۔اس خاتون کو بھی میں خوش خبری دیتا ہوں تمہارا بھی قرآن کریم میں ذکر ہے، اللہ تعالیٰ ان رونے والوں کا جب ذکر فرماتا ہے تو تم بھی اس میں شامل