خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 339
خطبات طاہر جلد ۳ 339 خطبہ جمعہ ۲۹/ جون ۱۹۸۴ء میسر نہیں تھیں اس لئے آنحضور ﷺ نے یہ عذر فرمایا کہ میرے پاس تو اتنی بھی استطاعت نہیں کہ میں تمہاری جان کی قربانی کو قبول کرلوں۔فرمایا ایسی صورت میں تَوَلُّوا وہ ایسی حالت میں واپس مڑے ہیں کہ ان کی آنکھیں درد سے آنسو بہارہی تھیں اور یہ عرض کرتے جاتے تھے کہ اے خدا ہم کچھ بھی خرچ نہیں کر سکتے تیرے حضور، ایسے ناکارہ ایسے بے کار ہو گئے ہیں کہ جان تھی وہ لے کر حاضر ہو گئے ہیں لیکن وہ بھی قبول نہیں ہو رہی۔فرمایا ان پر بھی کوئی حرج نہیں ہے۔یہ جو محاورہ ہے کوئی حرج نہیں یہ بظاہر تو ایک معمولی سا انکار کا کلمہ لگتا ہے لیکن جیسا کہ انگریزی زبان میں بھی بعض دفعہ Negative میں بہت عظیم الشان تعریف کی جاتی ہے اسی طرح عربی میں بھی یہ محاورہ ہے کہ نفی کے رنگ میں بہت زیادہ مثبت مضمون قائم کیا جاتا ہے۔تو کوئی حرج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ادنی سا بھی وہ خدا کی طرف سے یا خدا کے بندوں کی طرف سے پکڑ کے نیچے نہیں آئیں گے۔خبردار جو ان پر ہاتھ ڈالا، خبر داران کو بدنظر سے دیکھا۔یہ خدا کی حفاظت میں آنے والے لوگ ہیں ، جب خدا اعلان کرتا ہے کہ کوئی حرج نہیں تو مراد یہ ہے کہ کسی طرف سے ان کو تنگی نہیں دی جائے گی۔إِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ ( التوبه (۹۱-۹۳) فرمایا صرف ان لوگوں پر حرج ہے جو تو فیق پاتے ہوئے بھی قومی ضرورتوں کے وقت خدا کی راہ میں کچھ خرچ نہیں کرتے۔تو جہاں تک تو صف اول کے قربانی کرنے والوں کا تعلق ہے ان کے متعلق میں پہلے آیات تلاوت کر چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے کس محبت سے ان کا ذکر فرمایا ہے۔جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو توفیق نہیں پاتے ، ان کا بھی بڑی تفصیل سے قرآن کریم نے ذکر فر مایا اور بڑی محبت اور پیار کے ساتھ ذکر فر مایا اور مغفرت کی بھی خوشخبریاں دی اور رحم کی بھی خوشخبر یاں دیں۔لیکن وہ طبقہ جو توفیق کے باوجود حصہ نہیں لے رہا ان کے متعلق فکر کرنی چاہئے وہ مستغنی ہو گئے ہیں دین کی ضرورتوں سے اس لئے یہ تو بہر حال یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے مستغنی کر دے گا اور دین کو ان کی فقیری ، انکی احتجاج کی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔ایک طرف سے ضرورت پوری نہیں ہو سکے گی تو خدا دوسری طرف سے ضرورت پوری کرنے کے سامان پیدا کرے گا۔لیکن صرف یہ کہنا بھی کافی نہیں ہے کیونکہ مالی قربانی کی جو اصل روح ہے وہ روحانی ترقی