خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 338
خطبات طاہر جلد ۳ 338 خطبه جمعه ۲۹ جون ۱۹۸۴ء حرج نہیں، ان کی طرف سے وہ نیک نصیحت ہی قبول کر لی جائے گی۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ وہ لوگ جن کے پاس خرچ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے اگر وہ نیک نصیحت ہی کر دیں تو یہی اللہ کی راہ میں قبول ہو جائے گا ایک صدقے کے طور پر۔مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ۔فرمایا ہر وہ جو احسان کرنے والا ہے۔جو اپنے اعمال کو حسن بخشتا ہے اس کے اوپر کوئی حرج نہیں ہے۔وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ اور اللہ تعالیٰ تو بہت ہی بخشش کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسی تحریک کرے جس کے نتیجہ میں بجائے اس کے کہ وہ رحم کرنے والا ثابت ہو الٹا ظلم کرنے والا ثابت ہو جائے۔وہ تو تمہارےان حالات پر تمہاری دردناک حالتوں پر بڑی رحمت کی نگاہ فرما رہا ہے اور تم سے مغفرت کا سلوک فرما رہا ہے ان نیکیوں کے متعلق جو تم نہیں کر سکتے۔غَفُورٌ رَّحِیم میں بہت بڑی خوش خبری ہے ان لوگوں کے لئے فرمایا تم تو یہ رور ہے ہو، اس قدر درد کا اظہار کر رہے ہو کہ ہم کچھ خرچ کر نہیں سکتے ہمارا کیا بنے گا ؟ خدا کہتا ہے کہ تمہاری یہ ادا ہمیں پسند آ گئی تمہارے لئے تمہارا خدا غفور بن کے ظاہر ہوگا۔تمہاری بخششیں کرے گا اس خواہش پر کہ کاش کچھ ہوتا تو ہم خرچ کر سکتے اور بڑی رحم کی نگاہ سے تمہارا خدا تمہیں دیکھ رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کی حالتیں تبدیل کی جائیں گی۔ان کی غربت اور لاچاری کی حالتوں کو غنا میں تبدیل کر دیا جائے گا اور قوت میں تبدیل کر دیا جائے گا۔یہ ہے معنی یہاں غَفُورٌ رَّحِیم کا۔اللہ تعالیٰ نے صفات کے ذریعہ ان کو خوش خبری عطا فرمائی۔پھر فرماتا ہے وَلَا عَلَى الَّذِيْنَ إِذَا مَا آتَوُكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمُ عَلَيْهِ کہ ان لوگوں پر بھی کوئی حرج نہیں جن کے پاس کچھ خرچ کے لئے نہیں تھا لیکن وہ اپنی جانیں لے کر تیرے حضور حاضر ہو گئے اور چونکہ سفر لمبا تھا اور سواریاں درکا رتھیں اور غربت کا یہ عالم تھا عالم اسلام کا کہ تو نے بھی آگے سے یہ عذر پیش کیا کہ اگر تمہارے پاس کچھ نہیں ہے تو میرے پاس بھی تو کچھ نہیں ہے کہ میں تمہاری جسم کی قربانی کو ہی قبول کرلوں۔میں وہ سواریاں نہیں پاتا جن پر سوار کر کے تمہیں سینکڑوں میل کی مسافت پر قربانیوں کے طور پر بھجواؤں کیونکہ جس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے اس وقت شام کی سرحدوں پر خطرہ درپیش تھا اور دور کی مسافت طے کر کے صحابہ کو جانا تھا اور قربانیاں گویا کہ سواریوں پر لاد کر پیش کی جانی تھی خدا کے حضور۔چونکہ سواریاں