خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 329
خطبات طاہر جلد ۳ 329 خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۸۴ء سلم کی خوش خبریاں تھیں اس سے مراد یہ نہیں تھی کہ صبح تک سلام ہے اس کے بعد سلامتی ختم ہے۔مراد یہ ہے کہ اندھیرے میں بے چینی کے وقت مریض کو تسلی دی جاتی ہے دکھ اٹھانے والے کو دلا سے دیئے جاتے ہیں۔مائیں جس طرح بچوں کو کہتی ہیں کوئی بات نہیں دیکھ صبح سورج طلوع ہوگا تو تم ٹھیک ہو جاؤ گے، ڈاکٹر آ جائے گا فلاں مدد کو پہنچے گا۔ان معنوں میں فرشتے نازل ہوتے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ فکر نہ کر وہ دن دور بہت نہیں ہے جس کا انتظار ہے۔یہ تو قومی لحاظ سے لیلۃ کے معنی ہیں اور انفرادی طور پر بھی انسان کی زندگی میں ایسا زمانہ آتا ہے کہ جب وہ جرائم کی دنیا میں غرق ہو جاتا ہے بسا اوقات اس پر تاریکی کی رات آتی ہے۔ایسا زمانہ بھی آتا ہے کہ جب وہ دکھوں میں مبتلا ہوتا ہے اور یوں محسوس کرتا ہے کہ یہ دکھ اب کبھی ختم نہیں ہوں گے۔اس وقت بھی اسی قسم کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے اور وہ خاص وقت دعا کا جو قبولیت کا ، غیر معمولی قبولیت کا وقت ہوتا ہے وہ لیلۃ القدر ہے جس کا اس سورت میں انفرادی زندگی کے لحاظ سے ذکر کیا جا رہا ہے۔اس وقت ایک بے قرار دل میں تمنا اُٹھتی ہے۔بعض دفعہ گناہ گاروں کے لئے بھی ایک رات آتی ہے جب وہ تو بہ کرتے ہیں اور وہ تو بہ کا لمحہ ان کی ساری زندگی سے بہتر ہوا کرتا ہے اور بعض دفعہ دکھ اٹھانے والوں کی زندگی میں بھی ایک رات آتی ہے ان کی گریہ وزاری کی رات جو اس مقام کو پہنچ جاتی ہے جس کے بعد سوال ہی باقی نہیں رہتا کہ سورج طلوع نہ ہو۔اور یہ انفرادی زندگی کی رات جو ہے بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ آگے بڑھ جاتی ہے مختصر نسبتا مگر قومی زندگی کی رات بن جاتی ہے۔ایک رات تو ہے قومی زندگی کی جس کا سورج کبھی طلوع ہی نہیں ہوگا اور پھر وہ دن کبھی واپس نہیں آئے گا۔ان معنوں میں کہ ہمیشہ کے لئے قرآن اور محمد رسول اللہ ہے کے سورج کو دنیا کی نظر سے اوجھل کر دیں ایک تو وہ رات ہے۔ایک مختصر دور بھی آتے ہیں قومی زندگی میں جس میں افراد سے بڑھ کر معاملہ ہو جاتا ہے لیکن اتنا لمبا نہیں اور وہ دور ایسے ہیں جن میں قو میں داخل ہوتی بھی رہتی ہیں اور ان سے نکلتی بھی رہتی ہیں۔کبھی یہ راتیں چھوٹی ہو جاتی ہیں کبھی یہ راتیں لمبی ہو جاتی ہیں۔آج کل جماعت احمد یہ جس دور سے گزر رہی ہے۔یہ بھی ایک ایسا ہی لیلۃ القدر کا دور ہے۔اس کو سمجھنے کے لئے لفظ قدر کو سمجھنا بھی ضروری ہے کیونکہ قدر کو سمجھے بغیر لیلۃ القدر کی حقیقت تو معلوم نہیں ہوسکتی۔قدر کہتے ہیں ایک لحاظ سے تقدیر کو یعنی قسمتیں بنانے والی رات یا قسمتیں