خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 315 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 315

خطبات طاہر جلد ۳ 315 خطبه جمعه ۱۵ جون ۱۹۸۴ء دی جاتی ہے اور اس آنچ کے نتیجہ میں پھر وہ چمک کر ایک نئی قوم بن جاتے ہیں چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کا ذکر کر کے فرماتے ہیں: صَادَفْتَهُمْ قَوْماً كَرَوْثٍ ذِلَّة فَجَعَلْتَهُمْ كَسَبِيكَةِ الْعِقْيَانِ ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه: ۵۹۱) صلى الله عروسه کہ اے محمد مصطفیٰ اللہ تو نے اس قو تو نے اس قوم کو ایک گوبر اور غلاظت کی طرح حقیر اور گری پڑی چیز کے طور پر پکڑا فَجَعَلْتَهُمْ كَسَبِيكَةِ الْعِقْيَانِ اور دیکھو کیسا معجزہ دکھایا کہ سونے کی ڈلیوں میں تبدیل کر دیا۔ یہ جو دو مختلف جہتیں ہیں ایک گندگی کی اور دوسری سونے کی چمکتی ہوئی ڈلی ان دونوں کے درمیان جو فاصلے ہیں وہ مصیبتوں اور دکھوں کے فاصلے ہیں ۔ وہ کون سا معجزہ تھا جس نے ان کو تبدیل کیا ؟ وہ یہی معجزہ تھا کہ صحابہ کو جس حالت میں پکڑا ہے وہ اپنی دنیا کے عیش و عشرت میں مبتلا تھے ، دنیا کی آسائشوں میں پڑے ہو۔ ے ہوئے تھے، تھے، آنحضرت ﷺ نے ان کو دکھوں کی چکی میں داخل کیا ہے اور ایک طرف سے وہ گندگی داخل ہو رہی تھی اور دوسری طرف سے چمکتی ہوئی سونے کی ڈلیاں نکل رہی تھیں۔ تو یہ وہ مضمون ہے جس کو خدا تعالیٰ قرآن کریم میں یہاں کھول کر بیان فرما رہا ہے کہ دیکھو جب مصیبت پڑتی ہے الہی جماعتوں پر تو ان کو مٹانے کے لئے اور کمزور کرنے کے لئے نہیں پڑا کرتی ان کے دبے ہوئے خواص کو چمکانے کے لئے ، ابھارنے کے لئے ، صیقل کرنے کے لئے مصیبتیں ان پر عائد کی جاتی ہیں اور نتیجہ بتاتا ہے کہ یہ ایک نظام کے تابع بات ہوئی ہے، نتیجہ بتاتا ہے کہ حوادث کی کوئی اتفاقی چکی نہیں تھی کیونکہ ان حوادث کو جو مومنوں پر ڈالے جاتے ہیں ان کو اجازت نہیں دی جاتی کہ مومنوں کو پیس ڈالیں بلکہ بالکل برعکس نتیجہ ان کی ذات پر وہ پیدا کرتے ہیں۔ اس ذکر کے بعد پھر اللہ تعالیٰ ایک اور مضمون میں اس آیت کو داخل فرما دیتا ہے اور رفتہ رفتہ مومنوں کا ذکر شروع ہو جاتا ہے اور اس میں بھی ایک بہت ہی بار یک انسانی فطرت کا پہلو اجاگر کر کے پیش فرمایا گیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جتنے بھی قربانی کرنے والے ہیں ان کے مختلف طبقات ہیں مختلف ترقی کے درجے پر وہ کھڑے ہوتے ہیں، جتنا زیادہ انسان اپنے ذہنی نشو و نما میں بلند مقام پر پہنچا ہوا ہو، جتنا زیادہ اس کے جذبات لطیف ہوں اتنا ہی قربانی کا پھل بھی لطیف ہوتا چلا جاتا ہے