خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 314

خطبات طاہر جلد ۳ مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں ایک نظم میں کہ: 314 جب سونا آگ میں پڑتا ہے تو کندن بن کے نکلتا ہے پھر گالیوں سے کیوں ڈرتے ہو دل جلتے ہیں جل جانے دو ( کلام محمود صفحه ۵۴) خطبه جمعه ۱۵/ جون ۱۹۸۴ء تو فرمایا کہ یہ سونا صفت لوگ ہوتے ہیں خدا کے مومن بندے، یہ آگ میں پڑتے ہیں تو کندن بن جاتے ہیں اور وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے ہیں لیکن تم ان میں کندن کی سی چمک نہیں دیکھ رہے۔ان کا اتنا قصور بھی نہیں وہ ابھی آگ میں ڈالے نہیں گئے جب وہ بھی آگ میں ڈالے جائیں گے تو ان میں سے بھی بہت سے لوگ چمک چمک کر نکلیں گے اور نئی شانیں ان کو بھی عطا کی جائیں گی۔اس مضمون میں ساتھ ہی ابتلا کا فلسفہ نہایت ہی پیارے رنگ میں ، نہایت ہی عمدہ پیرائے میں بیان فرما دیا گیا۔جب سے آدم دنیا میں تشریف لائے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے وقت تک کہ جب مذہب اپنے درجہ کمال کو پہنچا اور معراج کے مقام میں داخل ہوا تمام مذہب کی تاریخ محفوظ ہے اور ایک بھی نبی ایسا نہیں ملتا جس کو خدا تعالیٰ نے پھولوں کی سیچوں پر چلنے کا حکم دیا ہو، سب کے رستے میں کانٹے بچھائے جاتے ہیں ، طرح طرح کی مصیبتیں ان پر پڑتی ہیں، کئی قسم کی تکالیف ان کو دی جاتی ہیں ان کے ساتھ بھی قوم ظلم کا سلوک کرتی ہے اور ان کے ماننے والوں کے خلاف بھی ظلم کا سلوک کرتی ہے اور ایک نادان یہ سوچ سکتا ہے اور کئی ایسے نادان ہیں جو سوال کرتے ہیں اور بعضوں نے اپنی کتابوں میں بھی یہ اعتراض اٹھائے ہیں کہ تم کہتے ہوا نبیا ء خدا کے پیارے ہوتے ہیں، محمد مصطفیٰ کا ذکر کرتے ہو کہ خدا کے بہت محبوب تھے تو اگر خدا کا وہ اتنا ہی پیارا تھا تو اتنی مصیبتوں میں کیوں مبتلا کر دیا؟ تو اس آیت میں ضمناً اس فلسفے کا بھی ذکر فر ما دیا کہ یہ تو ایک ایسی سرشت رکھنے والی جماعت ہوتی ہے، خدا کی جماعت ، خدا پر ایمان لانے والوں کی کہ ان کی خوبیاں تکلیفوں میں ابھرتی ہیں اور ان کے دبے ہوئے خواص مصیبتوں کے وقت چمک اٹھتے ہیں۔جتنا زیادہ ان پر مصیبت پڑتی ہے جو خدا کی تقدیر کے مطابق خاص اندازوں کے مطابق ڈالی جاتی ہے اور اس اندازے میں یہ بات ملحوظ رکھی جاتی ہے کہ ان کی استطاعت کتنی ہے؟ ان کی توفیق کتنی ہے؟ اس توفیق کے مطابق ان کو آنچ