خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 309 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 309

خطبات طاہر جلد ۳ 309 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۸۴ء ثابت کرتے ہوئے تو ایسی جماعت کا کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ پس قرآن کریم کی ہر آیت اپنے ساتھ ایک دلیل رکھتی ہے ایک بھی دعوئی ایسا نہیں جس کے ساتھ دلیل نہ ہو اور جس کے ساتھ حکمتوں کا بیان نہ ہو۔ فرماتا ہے وَمَا كَانَ اللهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللهَ يَجْتَبِي مِنْ رُّسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ فَامِنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ تم غیب کی باتوں کو تو نہیں دیکھ سکتے تمہیں توفیق نہیں ہے کہ غیب پر نظر کر سکو مگر اللہ جن کو پسند کرتا ہے غیب کی باتیں بتانے کے لئے جب وہ تمہیں بتاتے ہیں اور دلائل ساتھ دیتے ۔ ہیں تو ان کی باتیں کیوں نہیں مانتے؟ تم تو اندھے ہو، تمہیں تو حال کا بھی کچھ نظر نہیں آرہا مستقبل کی کامیابیوں کو یعنی مومنین کی مستقبل کی کامیابیوں کو کیسے دیکھ سکو گے؟ پس ایک ہی طریق ہے کہ وہ جن کو خدا غیب سے آگاہ کرتا ہے ان کی باتیں غور اور ہوش سے سنو اور ان کے پیچھے چلو وَإِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ کوئی دشمنی نہیں ہے سچائی کو کسی کے ساتھ اِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا اگر تم بھی ایمان لے آؤ اور تقویٰ اختیار کرو فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ تمہارے لئے بھی اللہ اسی طرح اجر عظیم لے کر منتظر بیٹھا ہے تمہیں بھی وہ اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ پس صلى الله ایہ وہ نقشہ ہے جو قرآن کریم میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا اور آپ کے ساتھیوں کا کھینچا گیا ہے اور آج بعینہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے جماعت کے حالات کو دیکھ دیکھ کر جو پاکستان میں گزر رہے ہیں کوئی شخص یہ تصویر میں کھینچ رہا ہے۔ پس کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی شکلیں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے غلاموں سے ملنے لگی ہیں۔ ایک شاعر بڑے فخر سے کہتا ہے که میری داستان تو ہر طرف چمن میں بکھری پڑی ہے۔ صلى الله چمن میں ہر طرف بکھری پڑی ہے داستان میری کچھ لعلوں کی شکل میں ، کچھ کلیوں کی شکل میں ، کچھ بلبلوں کی صورت میں ۔ تو بڑی خوش نصیب ہے وہ جماعت جس کی داستان قرآن کے چمن میں ہر طرف بکھری پڑی ہے جو صرف اس بات پر خوش نہیں ہوتی کہ اس کی خوشیاں پہلوں سے مل رہی ہیں ، وہ اس بات ، پر بھی خوش ہو رہی ہے کہ اس کے غم اور اس کے دکھ پہلوں سے مل رہے ہیں ، وہ اپنے زخموں سے بھی