خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 310 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 310

خطبات طاہر جلد ۳ 310 خطبہ جمعہ ۱۸ جون ۱۹۸۴ء جنت حاصل کر رہے ہیں اور اپنے مرہم سے بھی جنت حاصل کر رہے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو بھی دنیا میں نا کام نہیں ہو سکتے۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: ایک اور خوش خبری آپ کے لئے یہ ہے کہ یورپ کے دومرا کز کے لئے جو میں نے تحریک کی تھی اس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی شاندار رنگ میں جماعت قربانی کی توفیق پارہی ہے اور فَاسْتَبِقُوا الْخَیرات ( البقرہ : ۱۴۹) کا ایک عجیب نظارہ ہے۔عورتیں ہیں تو زیور پیش کر رہی ہیں ، مرد ہیں تو اپنے بچے ہوئے سرمائے پیش کر رہے ہیں۔ایک نوجوان نے مجھے تفصیل لکھی خط میں کہ ساری عمر جوڑ کر اتنے ہزار مارک میں نے اکھٹے کئے اور ایک مقصد تھا کہ اس کے ذریعہ سے میں یہ چیز حاصل کروں گا۔اس نے لکھا کہ میں روتے ہوئے یہ خط لکھ رہا ہوں، میری خوشی کا سامان پورا کریں، یہ ساری رقم آپ لے لیں۔نفرت ہے مجھے اس پیسے سے آپ اس کو حاصل کر لیں تب مجھے چین آئے گا تو اس میں سے کچھ میں نے قبول کیا اور کچھ میں نے اس سے کہا کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی قبول فرمائے اور اس میں تمہارے لئے بہت برکتیں ڈالے اور پھر اور تم دل کھول کر خدا کے حضور چندے پیش کرو۔لیکن عجیب نظارے ہیں دنیا کے پردے پر اس جماعت کی کوئی مثال نظر نہیں آسکتی ، جرمنی کے غریب مزدور بہت معمولی کمائیوں والے لوگ ہیں اور بڑی بڑی مشکلوں میں پھنسے ہوئے ،مقدمات میں اٹکے ہوئے ، ان کی طرف سے اب تک خدا کے فضل سے تقریباً پانچ لاکھ مارک کے وعدے آچکے ہیں اور تیزی سے وصولیاں بھی ہو رہی ہیں۔انگلستان کی طرف سے بھی جن صاحب کا پچاس ہزار پونڈ کا وعدہ تھا انہوں نے کل ادا کر دیا ہے اللہ کے فضل کے ساتھ ، اور اس کے علاوہ بھی بڑی تیزی کے ساتھ ادائیگی کی رفتار بڑی تیز ہے۔یہ حیرت انگیز بات ہے وعدے تو لوگ کر لیا کرتے ہیں پھر بڑی محنت کرنی پڑتی ہے وصولیوں کے لئے تو یہ جماعت ایسی ہے کہ ایک بھی آدمی نہیں گیا کہیں وصول کرنے کے لئے اور وصولیاں خود بخود پہنچنی شروع ہوگئی ہیں تو زَادَتْهُمْ إِيمَانًا (الانفال :۳) کا کوئی فرضی قصہ نہیں ہے کہ ایمان بڑھ گیا یہ بھی ایمان کی نشانی ہے کہ جب ایمان بڑھتا ہے تو اخلاص اور قربانی کا معیار ساتھ بڑھتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ حیرت انگیز جماعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائی اس نے اپنے فضل اور احسان کے ساتھ۔