خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 308
308 خطبہ جمعہ ۸/ جون ۱۹۸۴ء خطبات طاہر جلد ۳ طورة چنانچہ پاکستان سے اور ساری دنیا سے جو خبریں آرہی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ غیر معمولی پر تبلیغ کا رحجان بڑھ گیا ہے اور بکثرت بیعتیں شروع ہوگئی ہیں اور ایسی ایسی باتوں پر حیرت انگیز طریق پر بیعتیں ہو رہی ہیں کہ انسان پہلے سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔اس ابتلا کے وقت جب مار پڑ رہی ہو کسی کا ایسی جماعت میں داخل ہونا لازماً اس کی سچائی کی نشانی ہے۔جب ہار پڑ رہے ہوں اور شیر بینیاں تقسیم ہو رہی ہوں اور دعوتیں ہو رہی ہوں اس وقت تو گندے لوگ جایا کرتے ہیں اس طرف۔تو بعینہ یہ دو نظارے پاکستان میں عجیب شان کے ساتھ منظر پہ ابھرے ہیں۔ایک طرف جماعت کے کمزور اور نکھے اور فضول بعض ان میں سے ، وہ بھی زیادہ نہیں ہیں بہت تھوڑے ہیں ،اس حال میں جاتے ہیں غیروں کی طرف کہ دیگیں بٹ رہی ہوتی ہیں اور پھولوں کے ہار پڑ رہے ہوتے ہیں اور مٹھائیاں تقسیم ہورہی ہوتی ہیں اور وہ ان کے کئی دن کے دعوتوں کے سامان ہو جاتے ہیں اور ان سے بہت زیادہ تعداد میں ایسی جماعت میں اس وقت پاکستان میں داخل ہور ہے ہیں جو ماریں کھا کر داخل ہو رہے ہوتے ہیں ، جو گالیاں کھا کر داخل ہو رہے ہوتے ہیں ، جو اپنے گھر لٹا کر داخل ہو رہے ہوتے ہیں ، جو اپنی بیویوں کو چھوڑ کر داخل ہوتے ہیں ، جو اپنے بچوں کی جدائی قبول کر کے داخل ہوتے ہیں۔ایسے داخل ہو رہے ہیں جن کے ماں باپ مار مار کر اپنے بچوں کے حلیے بگاڑ دیتے ہیں اور بالکل بے زر اور بے زور کر کے گھروں سے نکال کے باہر پھینک دیتے ہیں۔چنانچہ اس کی بھی بڑی عجیب مثالیں سامنے آرہی ہیں۔چنانچہ ایک ہی جگہ جہاں شدید مخالفت ہوئی اور دو تین لوگوں کے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جس قماش کے وہ تھے اسی قماش کے تھے، ان کے ارتداد کی خبریں آئیں اور بغیر کسی تبلیغ کے نو افراد نے اسی دن آکر بیعت کی اور بڑی کثرت کے ساتھ اب وہ مسجد میں آکر گریہ وزاری کے ساتھ جماعت کی نمازوں میں شامل ہو رہے ہیں اور عجیب و غریب خدا سامان پیدا کر رہا ہے۔کل کی رپورٹوں میں یہ بھی معلوم ہوا کہ بی بی سی کا انٹرویوسن کر مختلف جگہوں میں جہاں پیغام ہی کبھی نہیں پہنچا تھا احمدیت کا، وہاں سے لوگ آئے جماعت سے ملے اور انہوں نے کہا ہم نے سن کر فیصلہ کر لیا ہے کہ یہ جماعت کچی ہے اس لئے ہماری بیعت قبول کرو۔دو یا چار یا پانچ یا دس گندے نکل رہے ہوں اور سو یا ہزار خدا کے فضل سے نیک اور صاحب عزم لوگ داخل ہو رہے ہوں قربانیوں کا فیصلہ کرتے ہوئے، اپنی سچائی کو