خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 293
خطبات طاہر جلد ۳ 293 خطبه جمعه ارجون ۱۹۸۴ء بھی نہیں لیکن تقریباً تیرہ چودہ سال کی ، ایک پیپلز پارٹی کے راہنما جو وزیر بھی تھے وہ ربوہ دیکھنے کے لئے آگئے اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مجھے فرمایا کہ تم ان کو دکھاؤ چنانچہ ان کو دکھاتے دکھاتے جب میں نے تحریک جدید کا دفتر دکھایا تو انہوں نے کہا یہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا یہ آپ لوگوں کا تحفہ ہے۔انہوں نے کہا ہم نے کون سا تمہیں تحفہ دیا ہے؟ میں نے کہا نہیں آپ سے پہلے لوگ دے چکے ہیں اور پھر وقف جدید کا دکھایا تو انہوں نے کہا یہ کیا ہے؟ میں نے کہا یہ بھی آپ لوگوں کا تحفہ ہے پھر انہوں نے تعجب کیا تو میں نے کہا یہ آپ سے پہلے لوگ دے چکے ہیں تحفہ، لیکن میں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ آپ بھی ایک تحفہ دینے والے ہیں اور وہ بعد میں ظاہر ہوگا تو آخر انہوں نے بے چین ہوکر کہا کہ کچھ بتاؤ تو سہی اب کہ کیا کہ رہے ہو؟ کن معموں میں باتیں کر رہے ہو؟ میں نے کہا تحریک جدید کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب کہ جماعت نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے توفیق پاکر مسلمانوں کی ایک بہت عظیم الشان خدمت کی تھی یعنی کشمیر میں اور بدقسمتی سے اس دور کے راہنماؤں نے سمجھا کہ اب اگر اس خدمت کو قبول کر لیا گیا تو جماعت بڑی تیزی سے پھیل جائے گی اس لئے اس کا بدلہ ظلم کے سوا اور کوئی بدلہ نہیں ہے۔چنانچہ مجلس احرار قائم ہوئی اور یہ ارادے ہوئے کہ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، یہ دعوے ہوئے کہ ایک بھی نہیں بچے گا یہاں اس بستی میں جو مرزا صاحب کا نام بھی جانتا ہوں۔اس وقت ایک اور آواز ہم نے اٹھتی ہوئی سنی اور وہ آواز یہ اعلان کر رہی تھی کہ میں احرار کے پاؤں تلے سے زمین نکلتی ہوئی دیکھ رہا ہوں اور اس کثرت سے خدا ہمیں پھیلائے گا کہ دنیا کے کونے کونے میں ہمیں پھیلا دے گا اور دنیا کے کونے کونے میں کناروں تک اللہ اپنے فضل کے ساتھ مسیح موعود کی تبلیغ کو پہنچائے گا۔چنانچہ وہی ہوا اور اس ظلم کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ نے تحریک جدید کے طور پر ہم پر فضل نازل فرمائے۔تو یہ ایک ایسا تحفہ ہے تمہارے ظلم کا کہ جب خدا کی تقدیر ہم تک پہنچانے سے پہلے پہلے اسے فضل میں بدل دیتی ہے۔جو تم ظلم دے کر چلاتے ہو وہ فضلوں میں تبدیل ہوتا چلا جاتا ہے۔میں نے کہا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے یہ ازل سے اسی طرح ہوتا آیا ہے۔ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام یہ کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ آگ ہی بھڑکائی گئی تھی نا، لیکن ابراہیم تک پہنچنے سے پہلے پہلے وہ گلزار میں تبدیل ہو چکی تھی يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَّا عَلَى إِبْرَاهِيمَةٌ (الانبياء: ۷۰)