خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 286
خطبات طاہر جلد ۳ 286 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۸۴ء لئے بددعا کو بھی انتہا تک پہنچا دیں تا کہ ایک طرف اللہ کے نیک دل اور پاک بندوں پر بے انتہا فضل نازل ہوں اور ایک طرف وہ جو دنیا کو بے راہ روی کی تعلیم دیتے ہیں، ان کی گمراہی میں ممد بنتے ہیں ان کو خدا تعالیٰ دنیا کے لئے ایسا عبرت کا نمونہ بنا دے کہ ان کو دیکھ کر پھر ہدایتیں جاری ہوں۔یہ تو عام کیفیت ہے جو اس وقت ہر احمدی کے دل میں موجود ہے اور اسی کیفیت کو میں ابھار رہا ہوں اور نمایاں کر رہا ہوں لیکن ایک بات میں یقین دلاتا ہوں کہ ان سارے امور کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اتنی دعائیں کر گئے ہیں کہ وہ ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ہم دعائیں کریں گے اور شاید ہمارے دماغ میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ ہماری دعاؤں کے زور سے ہی یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔یہ ویسی ہی بات ہوگی جیسا باپ بچے کو کوئی وزن اٹھوانے کے لئے کہہ دے اور کہے کہ اٹھاؤ اور ایک طرف سے خود اس کو پکڑ لے اور بچہ سمجھے کہ میں اٹھا رہا ہوں۔امر واقعہ یہ ہے کہ دو دفعہ یہ عظیم الشان واقعات دنیا میں گزر گئے ہیں سب سے پہلے حضرت محمد مصطفی علیہ کے زمانے میں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ کی دعائیں معجزے دکھا رہی تھیں لیکن وہ معجزے صحابہ کے ہاتھوں سرزد ہورہے تھے اس لئے وہ جو عارف باللہ نہیں ہے اس کو یہ نظر آرہا تھا کہ صحابہ کے ہاتھ یہ کام دکھارہے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کچھ اور نظر آیا۔آپ نے فرمایا جانتے ہو جو عرب کے بیابانوں میں ماجرا گز راوہ کیا تھا اور اس کے بعد فرماتے ہیں وہ ایک فانی فی اللہ کی دعائیں ہی تو تھیں۔( برکات الدعا روحانی خزائن جلد 4 صفحہ :۱۱،۱۰) تو اس دور میں بھی اللہ نے حضرت اقدس محمد مصطفی عملے کی غلامی میں ایک فانی فی اللہ ہمیں عطا کیا ہے اور اس کثرت کے ساتھ آپ نے اپنے وقت کے لئے اور آنے والے وقت کے لئے جماعت کے لئے دعائیں کی ہیں اور اس طرح گریہ وزاری کے ساتھ خدا کے حضور تڑپے ہیں کہ وہ ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔اس لئے وہ دعائیں ہیں جو کام کریں گی اور ان دعاؤں کے ساتھ جب ہماری دعاؤں کی ہوا بھی چلے گی، جب ہماری آہیں بھی شامل ہو جائیں گی ، جب ہماری حقیر کوششیں بھی مل جائیں گی تو محسوس تو یہ ہوگا کر عظیم الشان نتائج خدا ہمارے ہاتھوں دکھا رہا ہے لیکن بھولنا نہیں کہ ہمارے امام اور ہمارے آقا کی گریہ وزاری ہے جو دراصل آج بھی ہمارے کام آرہی ہے ، آج بھی ہمارے اوپر چھتری بن گئی ہے،