خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 284
خطبات طاہر جلد ۳ 284 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۸۴ء واقعات سامنے آرہے ہیں یہاں تک کہ بعض لوگوں کے متعلق یہ معلوم ہوا جب انہوں نے بیعت کی تو ان کے والدین نے ان کو گھروں سے نکال دیا، ان کا بائیکاٹ کیا اور شدید اذیتیں دیں لیکن اب جب یہ آرڈنینس جاری ہوا ہے تو انہی لڑکوں کی طرف سے اطلاع ملی کہ ہم دوبارہ گئے گھر تو ہمارے والدین ہم سے گلے لگ لگ کے پھوٹ پھوٹ کر روئے کہ کیا اندھیر ہو گیا ہے اور انہوں نے اعلان کیا کہ اب ہمیں سمجھ آئی ہے کہ تم لازما سچے ہو کیونکہ بچوں کے سواکسی قوم کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہوا کرتا۔ایسی تبدیلی حیرت انگیز پیدا ہو رہی ہے قلوب میں کہ وہ لوگ جو پہلے احرار کا ایندھن بنا کرتے تھے یعنی عوام الناس، گلیوں میں پھرنے والے، ریڑھوں والے، غریب ، مزدور، رکشا چلانے والے، اب اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ اپنے علما کو چھوڑ چھوڑ کر جماعت کے حق میں غیر معمولی طور پر جرات کے مظاہرے کرنے لگے ہیں۔ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ بعض غیر احمدی نوجوانوں نے احمدیت کی ایسی جرات کے ساتھ تائید کی اور خصوصاً اس مظلومیت کے بارہ میں کہ ان کی اپنے بعض دوستوں سے لڑائیاں ہو گئیں اور بمشکل لوگوں کو بیچ میں پڑ کر چھڑانا پڑا۔ایک ہمارے ربوہ کے دوست فیصل آباد گئے چند دن ہوئے جس رکشے میں بیٹھے اس رکشے والے کو محسوس ہوا کہ یہ احمدی ہیں، اس نے پوچھا کہ کیا آپ احمدی ہیں، اس نے کہا ہاں میں احمدی ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ روتے روتے اس سے رکشا چلانا مشکل ہو گیا، اس نے کہا آپ کو پتہ نہیں کتنی تکلیف ہے لیکن جو آپ کے ساتھ ظلم ہوا ہے وہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا اور رکشے سے اتار کے بہت انہوں نے کوشش کی لیکن وہ پیسے نہیں لیتا تھا۔آخر بڑی منت کر کے اس کو محبت اور پیار سے دلا سے دے کر زبر دستی اس کو پیسے دیئے۔یہ قدرت کی جو ہوائیں چل رہی ہیں کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے کسی انسان کے ہاتھ کا کھیل نہیں ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ صبر ہے جو جماعت دکھا رہی ہے اور صبر سے بڑی قوت کوئی دنیا میں نہیں ہے، حیرت انگیز انقلاب برپا کر دیتی ہے صبر کی قوت اور صبر ہی ہے جو مقبول دعاؤں میں ڈھلتا ہے۔پس اس صبر کو بھی زندہ رکھیں اور ان دعاؤں کو بھی زندہ رکھیں اور جہاں تک بس ہو دشمن کے لئے بھی دعا کریں اور جن دشمنوں سے بڑی کثرت کے ساتھ محبت کے قطرات ظاہر ہورہے ہیں، جن دشمنی کے بادلوں سے وہ قطرات برسنے لگے ہیں آپ کے اوپر ان کے