خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 283
خطبات طاہر جلد ۳ 283 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۸۴ء دورا بھی ان کے لئے باقی ہے اور اللہ تعالیٰ سزا میں ڈھیل تو کر دیتا ہے لیکن خدا کے ہاں اندھیر بہر حال نہیں ہے وَ امْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِينُ (الاعراف :۱۷۴) کا قانون لازماً چلتا ہے۔اس لئے کوئی دنیا کی طاقت نہیں ہے جو کسی قوم کو اس وقت بچا سکے جب خدا اس کی پکڑ کا ارادہ کر لے۔پس اس پہلو سے دیکھتے ہوئے ہمیں اپنی قوم کے لئے دعا کرنی چاہئے کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ان میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک بڑی تعداد ایسی پیدا ہورہی ہے جن کے اندر شرافت اور انسانیت جاگ رہی ہے، جن کے اندر اسلام کی نیکی کی روح کروٹیں بدل کر بیدار ہورہی ہے اور اپنے عمل سے بعض اور بعض اپنی زبان سے بھی بڑی شدت کے ساتھ ان مذہبی راہنماؤں سے سخت بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں جنہوں نے اسلام کے نام پر اسلام پر ظلم کیا ہے۔تو یہ ایک بہت ہی نیک آثار ہیں ، بہت ہی اچھی ہوا ہے جو چلی ہے اور اس کے عقب میں لازماً اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑی بڑی خوش خبریاں آنے والی ہیں۔تو ان لوگوں کو خصوصیت کے ساتھ دعا میں یادرکھیں اور یہ دعا کریں کہ ساری قوم پر یہ جذبہ غالب آجائے اور ان کی نیکیاں ان کی بدیوں کو دبا جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ میں دشمن کے لئے دعا سے بھی باز نہیں رہ سکتا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: میرا تو یہ مذہب ہے کہ دعا میں دشمن کو بھی باہر نہ رکھے جس قدر وسیع ہوگی اسی قدر فائدہ دعا کرنے والے کو ہوگا اور جس قدر دعا میں بخل کرے گا اسی قدر اللہ تعالیٰ کے قرب سے دور ہوتا چلا جائے گا اور اصل تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے عطیہ کو جو بہت وسیع ہے جو شخص محدود کرتا ہے اس کا ایمان کمزور ہے۔“ پس دعا میں دشمن کو یاد رکھنا یہ بھی ایک سنت ابرار ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی بارہا دشمنوں کے لئے دعائیں کیں۔پس وہ جو دوست بن رہا ہو، وہ دوست جس کے دل میں اللہ تعالیٰ ایک پیار کی ہوا چلا رہا ہو اور رفتہ رفتہ اس کی کیفیت بدل رہی ہو جس طرح موسم بدلتا ہے اچھے موسم میں ، تو شروع میں ہوا کے ہر اول دستے آتے ہیں وہ تھوڑا تھوڑا ٹھنڈ کا پیغام لاتے ہیں پھر اس کے پیچھے بھر پور برساتی یا بہار کی ہوائیں چلنے لگتی ہیں ویسے ہی آثار مجھے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پاکستان میں نظر آرہے ہیں اور دشمنوں کے دلوں کو بھی اللہ تعالیٰ بدلتا چلا جارہا ہے۔حیرت انگیز