خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 277 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 277

خطبات طاہر جلد ۳ 277 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۸۴ء (السير و الحلبیہ جلد سوم نصف آخر ز یر فتح مکہ ) ہم نے تو یہ اسلام سیکھا ہے ، یہی ہماری گھٹی میں ہے ، یہی ہماری فطرت ثانیہ بن چکا ہے، اس کے سوا ہمیں کسی اسلام کا کوئی علم نہیں اس لئے یہ اسلام کچھ اور ہے ہم ہرگز اس کی طرف نہیں بلاتے لیکن حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اسلام کی طرف ہم نہ بلانا چھوڑ سکتے ہیں نہ کبھی چھوڑیں گے اور یہی وہ اسلام ہے جو زندہ رہنے کا حق رکھتا ہے۔اسلام کی ہر دوسری چھاپ مٹا دی جائے گی مگر میرے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اسلام کی چھاپ زندہ رہنے کے لئے قائم کی گئی ہے مٹنے کے لئے قائم نہیں کی گئی تھی۔بہر حال جب یہ مظالم دیکھتے ہیں کہ اسلام پر بھی ظلم ہورہا ہے اور خود مسلمان کہلانے والے انتہائی ظالمانہ طریق پر اسلام کو بدنام کر رہے ہیں تو امر واقعہ یہ ہے کہ میرے منہ سے بھی آئمتہ الکفر کے لئے یہ دعا نہیں نکلتی پس آج میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں کیسے جماعت کو رو کے رکھوں جب میں خود اس لائق اپنے آپ کو نہیں پاتا، بہت زور مارتا ہوں اللہ کے حضور استغفار کرتا ہوں، روتا ہوں کہ اے خدا! مجھے توفیق دے کہ ان کے ائمتہ الکفر کے لئے بھی دعا کر سکوں لیکن دعا دل سے نہیں نکلتی اس لئے میں جماعت کو بھی اس معاملے میں آزاد کرتا ہوں۔میرا کوئی حق نہیں ہے جس سخت اور کٹھن منزل تک میں نہیں پہنچ سکتا میں کیسے جماعت کو پابند کر سکتا ہوں؟ اس لئے وہ سارے جو روتے ہوئے اور گریہ وزاری کے ساتھ خطوط لکھ رہے ہیں کہ ہم نہیں کر سکتے ہمیں معاف کریں، خدا سے معافی مانگیں میں تو اپنے لئے اللہ سے معافی مانگتا ہوں کہ اے خدا! مجھے بھی توفیق نہیں مل رہی۔پس ائمتہ الکفر کے اوپر آپ اب دعا کرنے کے پابند نہیں ہیں انہوں نے حد کر دی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے پتہ چلتا ہے کہ ایک ایسا وقت آئے گا کہ اگر دعا کرو گے بھی تو بعض ظالم ایسے ہیں ان کے حق میں دعا نہیں قبول ہوگی۔لیکن ائمتہ الکفر چند ہیں سارا ملک تو ائمۃ الکفر میں شامل نہیں وہ تو خود مظلوم ہیں، انتہائی ظلموں کی چکی میں پیسا جارہا ہے ہمارا وطن اور اسلام اس وقت انتہائی ظلموں کی چکی میں پیسا جا رہا ہے اس لئے ان کے لئے دعا نہیں چھوڑنی، ان کے لئے تو میرے دل سے اس طرح بے ساختہ دعائیں نکلتی ہیں جس طرح پہاڑی چشمے ابلتے ہیں اپنے زور کے ساتھ۔نادانی میں بعض ظلم کرنے والے ہیں، عامتہ الناس نہایت شریف لوگ ہیں آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ ہر بڑے ابتلا میں ہر بڑی مصیبت کے وقت یہ پاکستان کے شرفا تھے جنہوں نے مخالفتوں کے باوجود