خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 266

خطبات طاہر جلد ۳ 266 خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۸۴ء جائے اس لئے ایک مشن وہاں بنانا ہے۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ روپیہ اپنے فضل سے مہیا کرے گا۔ایک ہمشیرہ ہیں ہماری سعیدہ جو غالباً عبدالطیف صاحب ایڈوکیٹ ہیں (انکے رشتہ دار ہیں ) بہر حال سعیدہ بیگم نام ہے انہوں نے اس علم سے پہلے ہی کہ میں کیا سکیم پیش کرنے والا ہوں چھ ہزار کچھ سو پونڈ جو ایک لاکھ روپے کے برابر رقم بنتی ہے از خود مجھے بھجوا دیئے ہیں چیک کی شکل میں اور کہا کہ اس کو جماعت کی نئی ضروریات سامنے آرہی ہیں ضرور پیدا ہوں گی اس لئے میں ان کے لئے یہ پیش کرتی ہوں۔تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا دے۔انشاء اللہ تعالیٰ روپیہ تو آئے گا اللہ کے فضل سے کبھی یہ ہوا ہی نہیں کہ ضرورت پڑی ہو اور روپیہ مہیا نہ ہو گیا ہو۔اس طرح میں اس تحریک کا آغاز کرتا ہوں اور یہ یوروپین ممالک کے لئے ہے یعنی یورپین ممالک میں بسنے والے احمدی اس میں حصہ لیں گے لیکن فی الحال ہر ملک میں نہیں بلکہ ان دو ممالک میں مراکز قائم کئے جائیں گے جو سارے یورپ کے لئے ہوں گے، ان کے مشترکہ کاموں کو سرانجام دیں گے۔بہر حال جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا ہم نے تو وہی کرنا ہے جس کی خاطر خدا نے ہمیں پیدا فرمایا ہے اور ہمیشہ یہی کرتے چلے آئے ہیں۔ہمارے کام تو رکنے نہیں ہیں اور جتنی بڑی روکیں دشمن ڈالتا چلا جاتا ہے ہم نے ہمیشہ یہی دیکھا ہے کہ خدا کا فضل اتنا ہی زیادہ قوت پیدا کرتا چلا جارہا ہے ہماری روش میں اور پہلے سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ ہم آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اس لئے ان بادلوں سے ڈریں نہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے بہت ہی خوب فرمایا تھا کہ : تم دیکھو گے کہ انہی میں سے قطرات محبت ٹپکیں گے با دل آفات و مصائب کے چھاتے ہیں اگر تو چھانے دو ( کلام محمود صفحه : ۱۵۴) اس لئے بجلیاں ہیں تو کسی اور کے لئے ہوں گی ہمارے لئے تو رحمت کی بارشیں ہی ہیں اس لئے ہرگز کوئی خوف نہیں کرنا اور پہلے سے زیادہ ہمت اور توکل کے ساتھ خدا کی راہ میں آگے قدم بڑھانا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ شعر ہمیشہ پورا ہوتا رہے گا اور ایک دن ایسا نہیں آئے گا اس شعر کی راہ میں کوئی دن کھڑا ہو سکے۔ایک رات ایسی نہیں آسکتی جو اس شعر کے مضمون پر اندھیرا ڈال سکے۔