خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 265
خطبات طاہر جلد ۳ 265 خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۸۴ء اس غرض سے امریکہ میں پہلے سے میری سکیم یہ تھی کہ پانچ بڑے مراکز قائم کئے جائیں۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت امریکہ نے بہت وسعت قلبی سے قربانی کا مظاہرہ کیا ہے اور بعض جگہ تو حیرت انگیز قربانی کا مظاہرہ ہوا ہے کہ انسان کی روح وجد کرنے لگتی ہے۔اپنی ساری عمر کی کمائیاں بعض لوگوں نے پیش کر دی ہیں اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ اپنے مکان چھوڑ دیئے دوسرے کام چھوڑ دیئے اور اس طرف توجہ کی لیکن ایک ابھی بڑا طبقہ وہاں بھی موجود ہے جو اپنے معیار اور توفیق کے مطابق ابھی سامنے نہیں آیا لیکن بہر حال مجھے شیخ مبارک احمد صاحب نے جائزہ لینے کے بعد تسلی دلائی ہے کہ اس وقت تک ہمیں تسلی ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ امریکہ خود اس بوجھ کو اٹھا لے گا اور کام پیچھے نہیں رہیں گے پیسے کی کمی کی وجہ سے۔چنانچہ تین مشن اس وقت تک وہاں نئے پروگرام کے مطابق لئے جاچکے ہیں اور وسیع زمین خریدی جا چکی ہے، ایک جگہ عمارت خریدی گئی ہے۔تو انشاء اللہ تعالیٰ بہت جلد وہاں اس کا م کو بڑھا دیا جائے گا۔دونئے مراکز یورپ کے لئے بنانے کا پروگرام ہے ایک انگلستان میں اور ایک جرمنی میں۔انگلستان کو یورپ میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے اس لئے انگلستان میں بہر حال ایک بہت بڑا مشن چاہئے جس ضرورت کو یہ مشن پورا نہیں کر سکتا۔سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اب تو آپ کو عید کی نماز کے لئے بھی مشکل پڑ جاتی ہے، جمعہ کی نماز کیلئے بھی مشکل پڑ جاتی ہے روز کی شام کی مجلس کے لئے بھی مشکل پڑ جاتی ہے تو یہ مجد تو کافی نہیں ہے اس کے لئے۔پھر دفاتر ہیں، کئی قسم کی ضروریات ہیں جونئی سامنے آئیں گی اس لئے ایک انگلستان میں بہت بڑا مرکز قائم کرنا ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔اس کے لئے کمیٹی بٹھا دی گئی ہے اور ایک جرمنی میں کیونکہ جرمنی کی جماعت بہت مخلص اور تبلیغ میں دن رات منہمک ہے۔بہت بچارے غریب مزدور پیشہ لوگ ہیں علم بھی زیادہ نہیں، پاکستان سے نہایت غریب سوسائٹی سے اکثر تعلق رکھنے والے ہیں لیکن ایسا اللہ نے ان کو اخلاص بخشا ہے کہ جب چندے کی ضرورت پڑی تھی تو جرمنی کا مشن بہت سے دوسرے مشنوں کے لئے کفیل بن گیا تھا اور حیرت انگیز قربانی کے مظاہرے انہوں نے کئے تھے۔اب جب تبلیغ کا کہا تو لاعلمی کے باوجود انہوں نے کیسٹس پکڑیں اور ٹیپس (Tapes) اٹھا ئیں اور ہر طرف تبلیغ شروع کر دی اور خدا کے فضل سے ایک انقلاب آ رہا ہے جرمنی میں تبلیغی نقطہ نگاہ سے۔تو جرمنی کی جماعت کا حق ہے کہ اسے بہت وسعت دی