خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 260
خطبات طاہر جلد ۳ 260 خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۸۴ء ہے جماعت پر اس لئے ہر تدبیر کے مقابل پر ہم بھی ایک خدا کی تقدیر کے تابع ہیں اس کی ہواؤں کے رخ پر چلنے والی تدبیر کو ظاہر کریں گے اور یہی جماعت کا ہمیشہ سے طریق رہا ہے اور یہی انشاء اللہ تعالیٰ ہوکر رہے گا۔چنانچہ اس ضمن میں میں ایک سات نکات کا پروگرام آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔عبادت کو روکنے کی انہوں نے کوشش کی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے تمام دنیا میں ہر احمدی اپنی عبادت کے معیار کو بلند کر دے یعنی اپنے عجز کو، بجز کے معیار کو ایسا بلند کرے کہ خدا کے حضور اور زیادہ جھک جائے ، اس کی روح سجدہ ریز رہے خدا کے حضور اور وہ اپنی زندگی کو عبادت میں ملا جلا دے ایسے گویا کہ اس کی زندگی عبادت بن گئی ہو۔عبادت والوں کو خدا کبھی ضائع نہیں کیا کرتا اور عبادت سے روکنے والوں کو کبھی خدا نے پنے نہیں دیا۔سب سے زیادہ قوی ہتھیا عبادت ہے ایک روحانی جماعت کے ہاتھ میں یہ دعائیں وغیرہ یہ سب عبادت کا حصہ ہیں اس لئے وہ کہتے ہیں کہ ہم عبادت سے روکیں گے تو ہم عبادت میں پہلے سے بڑھ جائیں گے یہی جواب ہونا چاہئے۔مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کی سی آئی ڈی پھر رہی ہے ہر جگہ، ہر جگہ لوگ ٹوئیں لیتے پھر رہے ہیں کہ ان کا رد عمل کیا ہے کہ ہمارا رد عمل تو وہی ہوگا جو الہی جماعتوں کا ہوا کرتا ہے۔جس سمت میں تم روکیں ڈالو گے اس سمت کے مخالف ہمارا رد عمل ہوگا، اللہ کی تقدیر کے مطابق ہمارا ردعمل ہوگا۔ایک مذہبی جماعت کا اول رد عمل یہ ہوتا ہے کہ جب خدا سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ اور خدا کے قریب ہو جاتی ہیں۔پس عبادت سب سے اہم بات ہے۔لوگ پوچھتے ہیں کہ ہمیں قربانی کی طرف بلاؤ، بتاؤ کیا کرنا ہے؟ آپ اگر اپنا وقت خدا کی خاطر قربان نہیں کر سکتے ، اگر آپ اللہ کے حضور عبادت کا حق ادا نہیں کر سکتے تو باقی قربانیاں بے معنی ہیں کیونکہ یہی مقصد حیات ہے، اس کی خاطر خدا نے انسان اور جن کو پیدا فرمایا اس لئے عبادت پہلا جواب ہے اور یہی سب سے اہم طریقہ کا رہے ہمارے ہاتھ میں ، یہی سب سے بڑی تدبیر ہے ہماری اس لئے اس تدبیر پر زور ماریں جس حد تک ممکن ہے عبادت کی طرف توجہ کریں ، اپنے گھروں کو جگا دیں عبادت کے لئے۔بچہ بچہ، بوڑھا بوڑھا، عورتیں، مردسارے عبادت گزار خدا کے بندے بن جائیں۔