خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 257 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 257

خطبات طاہر جلد۳ 257 خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۸۴ء جس کی عبادت کے لئے کھڑا ہوا ہے ، جس کے حضور اس کی پیشانی بھکتی ہے جس کے حضور یہ سجدہ ریز ہوتا ہے اور اپنی گریہ وزاری اور بکا کے ساتھ ایک طوفان برپا کر دیتا ہے جس کے قدموں میں اس کے آنسو بہتے ہیں، وہ خدا کمزور نہیں ہے۔كَلَّا لَبِنُ لَّمْ يَنْتَهِ خبر دار سن لے کہ اگر وہ باز نہ آیا ہم پکڑیں گے اس کی پیشانی کے بالوں سے اس کو اور جب ہم پکڑتے ہیں پیشانی کو تو لازماً وہ پیشانی جھوٹی ہوا کرتی ہے كَلَّا لَبِنْ لَّمْ يَنْتَهِ بڑی جھوٹی پیشانی ہے بڑی خطا کار پیشانی ہے نَاصِيَةِ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةِ لیکن اس سے پہلے فَلْيَدْعُ نَادِيَہ کے متعلق کچھ کہوں نَاصِيَةِ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ کا ذکر کیوں اس طرح آیا اس کے متعلق کچھ بتا تا ہوں۔عبادت میں پیشانی کو ایک خاص مقام حاصل ہوا کرتا ہے۔جب پیشانی خدا کی حضور زمین سے لگ جائے تو یہ بظاہر عجز کی انتہا لیکن حقیقت میں عبادت کا معراج ہے۔سب سے زیادہ سر بلندی اس وقت انسان کو نصیب ہوتی ہے جب اس کی پیشانی خدا کے حضور پوری سچائی کے ساتھ زمین کے ساتھ لگ جاتی ہے تبھی اللہ تعالیٰ نے رَبّی اعلیٰ پڑھنے کا حکم فرمایا کہ اس وقت خدا اپنے اعلیٰ رب کو یادکرنا کیونکہ جس کے حضور تم جھکے ہو وہ خود بہت بلند ہے اور سب سے زیادہ بلند ہے تمہیں ان بلندیوں سے ہمکنار کر دے گا جن بلندیوں کا وہ خود مالک ہے۔تو پیشانی عبادت کا مظہر ہوا کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ یہ پیغام دے رہا ہے ایسے لوگوں کو کہ جب تم نے میرے عاجز بندوں کی پیشانی کو میری راہ میں جھکنے سے روکا تو ثابت کر دیا کہ تمہاری پیشانیاں جھوٹی ہیں، تمہارے سارے سجدے اکارت گئے ،وہ نشان جو ظاہری بنے ہوئے ہیں ان کی کوئی بھی حقیقت نہیں میری نظر میں اس لئے ان جھوٹی پیشانیوں کو میں پکڑوں گا کیونکہ میرے بندوں کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ان پیشانیوں پر ہاتھ ڈال سکیں۔فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ اور یہاں یہ نہیں فرمایا کہ اپنے مددگاروں کو بلا ؤ فرمایا اپنی مجالس کو بلا ؤ تم نے بھی تو بہت سی مجالس بنا رکھی ہیں، اب آواز دو اپنی مجالس کو کہ وہ تمہاری مدد کریں فَلْيَدْعُ نَادِیے ہم اپنی پولیس کو بلائیں گے اور پھر دیکھیں گے کہ مجالس جیتی ہیں یا اللہ کے سپاہی جیتے ہیں جب وہ اترا کرتے ہیں کسی کی مددکو اور کسی کو ہلاک کرنے کے لئے ؟ کتنی حیرت انگیز صفائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے عبادت سے روکنے والوں کی نفسیات کا بھی ذکر فرمایا، عبادت کا فلسفہ بھی بیان فرمایا، یہ بھی بتادیا کہ آنحضرت ﷺ کی ذات میں یہ عبادت مجتمع ہو جاتی ہے اور پھر منتشر ہو کر کسی ایک