خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 20
خطبات طاہر جلد۳ میں زیادتیاں ہوتی ہیں اور ظلم ہوتے ہیں۔20 20 خطبه جمعه ۱۳/ جنوری ۱۹۸۴ء اللہ تعالیٰ کی چونکہ بہت باریک نظر ہے فطرت پر ، فطرت کا پیدا کرنے والا وہ ہے،اس کے ہر پہلو سے واقف ہے اس لئے قرآن کریم بھی کوئی پہلو فطرت کا باقی نہیں چھوڑتا اور ہر ایک کا جواب دیتا ہے۔چونکہ بڑی بڑی قومیں لڑائیوں کے بعد ہمیشہ یہ رد عمل دکھاتی ہیں کہ جن لوگوں کی وجہ سے جنگیں ہوئی تھیں انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرو، ان کو دنیا میں بکھیر دو، ان کے اندر اتنی سکت نہ باقی رہنے دو کہ وہ پھر اٹھ سکیں اس کے نتیجہ میں ان کا حکم تو نہیں چلتا، قانون قدرت چلتا ہے اور وہ مظالم ان کے اندر ڈوب جاتے ہیں، ان کا جزو بن چکے ہوتے ہیں اور ان کی رگوں میں دوڑتا رہتا ہے ان مظالم کا خون اور جب بھی ان کو توفیق ملتی ہے وہ پھر اپنا بدلہ لینے کے لئے اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔دو دفعہ جرمن قوم سے ایسا ہو چکا ہے اور تیسری دفعہ بھی اس کا بیج بویا جا چکا ہے۔جب برلن کو تقسیم کیا جارہا تھا اور جرمنی کو تقسیم کیا جا رہا تھا تو روز ویلٹ ، چرچل اور سٹالن باتیں کر رہے تھے کہ اس قوم نے دو دفعہ دنیا کی تباہی کے سامان پیدا کئے ہیں اور دونوں دفعہ جو ہم نے یہ ذرائع اختیار کئے وہ کافی نہیں تھے یعنی اس کے نتیجہ میں ہم نے جو ان پر ظلم کیا وہ کافی نہیں تھا اس لئے اب اس قوم کو اس طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دو کہ کوئی سوال ہی باقی نہ رہے اگلی جنگ کا اور اب وہی Divided جرمنی جو دوحصوں میں بٹ چکا ہے وہی بہت بڑے خطرات کا موجب بن چکا ہے ، دو Polarisation وہاں ہو چکی ہیں، ایک مشرق کا کیمپ اور ایک مغرب کا کیمپ، اب جرمن ، جرمن سے نفرت کرنے لگا ہے اور سب سے بڑا خوف جو مغربی جرمنی میں نظر آرہا ہے وہ یہ ہے کہ پہلی جنگ میں تو ہم غیروں سے لڑا کرتے تھے اب جرمن، جرمن کا خون پئے گا اور جرمن ، جرمن قوم کو ہلاک کرنے کا سامان پیدا کرے گا۔تو اسلامی تعلیم کو بھلانے کے نتیجہ میں کوئی فائدہ تو نہ پہنچا دنیا کو اور کوئی صورت ان کی نہیں بنتی کہ کس طرح ان مظالم کا خاتمہ کر سکیں۔سیدھا سادہ قرآنی اصول تھا جس کو بھلانے کے نتیجہ میں وہ اس مخمصے میں پھنس چکے ہیں۔ایک ظلم کے نتیجہ میں اگر بدلہ ظلم سے نہ بڑھے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف یہ ذریعہ ہے ظلم کو ختم کرنے کا اور یہ کم از کم ذریعہ ہے، اگر عفو سے کام لو گے تو زیادہ امکان ہوگا ظلم کے غائب ہونے کا ، اگر درگزر کے بعد مغفرت بھی کرو گے تو اس سے بھی اور زیادہ امکانات ہو جائیں گے ظلم کے مٹنے کے لیکن اگر تم یہ ترکیب اختیار کرو گے اللہ کے قانون سے جنگ کرتے ہوئے کہ جتنا