خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 253
خطبات طاہر جلد ۳ 253 خطبه جمعه ۱۸ رمئی ۱۹۸۴ء پاکستان میں مخالفت اور احمدیت کی ترقیات (خطبه جمعه فرموده ۱۸ مئی ۱۹۸۴ بمقام مسجد فضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے درج ذیل آیات کی تلاوت کی : ارَءَ يْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى أَرَعَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَعَيْتَ اِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى اَلَمْ يَعْلَمُ بِأَنَّ اللَّهَ يَرى كَلَّا لَ بِنْ لَّمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ قُ نَاصِيَةِ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ پھر فرمایا: (العلق: ۱۰-۱۹) قرآن کریم کی جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا ذکر کرتا ہے جو خدا کی عبادت سے اس کے بندوں کو روکتے ہیں اور ایک ایسے عجیب رنگ میں یہ ذکر فرمایا گیا ہے کہ اس کے معنی خاص بھی ہو جاتے ہیں اور عام بھی ہو جاتے ہیں محدود ہو کر ایک نقطے پر بھی سمٹ جاتے ہیں اور ایسی وسعت بھی اختیار کر جاتے ہیں کہ تمام بنی نوع انسان پر وہ حاوی ہو جاتے ہیں۔آج کل جو پاکستان میں ہو رہا ہے جو کچھ ہو چکا ہے اس سے زیادہ بد ارادے دشمن کے ہیں اور وہ ارادے مختلف جگہوں سے مختلف مونہوں سے ظاہر بھی ہونے لگے ہیں اور ایسے ایسے لوگوں کے