خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 251 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 251

خطبات طاہر جلد ۳ 251 خطبه جمعه ارمئی ۱۹۸۴ء اپنے اوپر پھر مانگنے پر آمادہ ہوا کرتا ہے۔اپنی غیرت پر ، اپنے نفس پر ، اپنی انانیت پر اور اس کے بغیر مانگنا ہے ہی بے معنی تو خدا کے متعلق جب یہ استعمال ہوتا ہے فقرہ تو بہت عظیم الشان معنی اختیار کر لیتا ہے۔منکن جاسومر ر ہے کہ جب خدا کے حضور مانگنے جاتے ہو تو اپنی انانیت، اپنی دنیا کی تدبیروں کا خدا، اپنے دوسرے ذرائع کو ساتھ لے کر کیوں چلتے ہو پہلے ان پر موت وار د کر لو کچھ بھی نہ چھوڑو اپنا اور پھر اس نیت سے جاؤ کہ مر جائیں گے اس راہ میں لے کر واپس آئیں گے، اس کے نتیجہ میں بکریوں کی طرح لوگ ذبح ہور ہے ہوتے ہیں، دعا میں ایک ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے مرے سومنگن جا اگر مر چکے ہو تو پھر جاؤ مانگنے اس کے بغیر تمہیں مانگنے کا کوئی لطف نہیں ، مانگنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔تو جماعت احمد یہ جب ان معنوں میں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے گی اور گریہ وزاری کرے گی تو انشاء اللہ تعالیٰ دیکھتے دیکھتے عظیم الشان تبدیلیاں واقعہ ہوں گی۔جس غیب پر آپ ایمان لاتے ہیں پھر غیب سے ہی تو ہاتھ ظاہر ہوں گے، آپ کسی حاضر پر تو ایمان لانہیں رہے۔غیب کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہاں سے آپ کی مدد کے لئے فرشتے اتریں جہاں سے دنیا ان کو دیکھ ہی نہیں سکتی، ایسی نصرت کے سامان پیدا ہوں کہ آپ کا تصور بھی نہیں جاسکتا کہ کہاں کہاں سے نصرت کے سامان پیدا ہوں گے، بارش کے قطروں کی طرح ہر طرف سے پھر اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہونے لگ جاتی ہے لیکن یہ کامل یقین رکھیں کہ لازماً آپ نے جیتنا ہے ،سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کسی جھوٹے خدا کے جیتنے کا اور اس یقین کے ساتھ قربانی کے لئے تیار ہیں کیونکہ مرے سومنگن جامیں یہ پیغام بھی ہے کہ جب تم خدا کے حضور مانگنے کے لئے جارہے ہو تو اس کے حضور اپنی ہر چیز ، اپنی ہر خواہش پر بھی موت طاری کر لو پھر جو کچھ مٹ جاتا ہے مٹ جائے فرق ہی کوئی نہیں پڑتا۔وہ قوم جو مرنے پر تیار ہو چکی ہوتی ہے مارنے پر نہیں بلکہ مرنے پر اس قوم کو دنیا میں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔چنانچہ یہ دوسرا واقعہ بھی جنگ بدر سے ہی ثابت ہے ، دعا کا آخری مفہوم بھی جنگ بدر سے پتہ چلتا ہے اور یہ مضمون بھی جنگ بدر سے ثابت ہوتا ہے چنانچہ جب آنحضرت ﷺ کے صحابہ اپنی نہایت غربت اور کسمپرسی کی حالت میں صف آرا تھے ، تین سو تیرہ جن میں بوڑھے بھی تھے ، بچے بھی تھے، ایسے بھی تھے جن کے ہاتھ میں لکڑیوں کی تلوار تھی ایسے بھی تھے جولنگڑے تھے ،ایسے غریب بھی تھے کہ جب وہ شہید ہوئے تو ان کے بدن کی چادر ان کو پورا ڈھانپ نہیں سکتی تھیں ، اوپر کا جسم ڈھانپتے تھے تو نیچے کا نگا ہو جاتا