خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 246 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 246

خطبات طاہر جلد ۳ 246 خطبه جمعه الارمئی ۱۹۸۴ء إنَّا إِلى رَبَّنَا مُنْقَلِبُونَ کہ تم تو دشمن خدا ہو جاؤ گے نا تم تو ایک مخالف خدا بن جاؤ گے۔ہمارے اس لئے ہمارے پاس تم یہ سمجھو گے کہ ایک تمہارے ظلموں کے نتیجہ میں ہم تمہاری طرف آئیں گے! کتنے بیوقوفوں والا خیال ہے! ہمارے پاس تو اور بھی اس کے سوا چارہ نہیں رہے گا کہ اپنے خدا کی طرف لوٹ جائیں جو ہمارا رب ہے اور ہم اس کے قریب ہو جائیں گے جتنا تم ہمیں دور کرنے کی کوشش کرو گے کیونکہ ظلم کے نتیجہ میں تو ق میں دور ہٹا کرتی ہیں قریب نہیں آیا کرتیں کیسی حماقت ہے فرعون کی جس کو ظاہر کر دیا ان چند جادوگروں نے کہ تم کہتے ہو جبر کے ذریعے ہمیں واپس لے آؤ گے اور ہم تمہیں بتا رہے ہیں کہ جبر کے ذریعے ہم تمہاری طرف واپس نہیں آئیں گے۔جس خدا کا تم انکار کر رہے ہو اس کی طرف زیادہ تیزی کے ساتھ دوڑیں گے اور اگر تم ہمیں ہلاک کرنے میں کامیاب ہو گئے تو تمہاری خدائی کا دعوی و یسے ہی جھوٹا ثابت ہو جائے گا کیونکہ اس دنیا کی ہلاکت کا مطلب ہے تمہارے چنگل سے آزادی پھر بھی تمہارے قریب نہیں رہتے ، پھر بھی اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر ہمیں جانا ہوگا۔کیسی بے اختیاری ہے ان انسانوں کی جو خدائی کا دعوی کر دیتے ہیں جس کو اس جواب میں ظاہر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ تمہیں تکلیف کیا ہے؟ کس بات کا غصہ ہے وَمَا تَنْقِمُ مِنَّا إِلَّا أَنْ أَمَنَّا بِايَتِ رَبَّنَا تم سوائے اس کے کسی بات کو برا نہیں منا رہے کہ ہم نے اپنے رب کے نشانات کو دیکھا اور انہیں قبول کیا جب وہ ہمارے پاس آئے۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ اے خدا! یہ ہمارے ارادے ہیں کہ ہم تیری خاطر اپنا سب کچھ لٹانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں لیکن ہم خدائی کے دعوے دار تو نہیں ، ہم تو عاجز بندے ہیں اس لئے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اس کی توفیق پائیں گے جب تک تو توفیق نہیں دے گا۔کیسا کامل مضمون ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے! اس کو کہتے ہیں قرآن کریم کی صداقت کا معجزہ اور نشان ، حیرت انگیز کتاب ہے کہ اس کی کوئی نظیر دنیا میں آپ کو نہیں مل سکتی۔ایک مربوط مضمون ہے جس میں صرف سطح پر من پر مضمون نہیں چل رہا بلکہ اس کے اندر ڈوبے ہوئے گہرے مضامین کا سلسلہ ساتھ ساتھ جاری ہے۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا کہتے ہیں اے خدا! ہم تو تیرے نام پر یہ دعوے کر بیٹھے ہیں سب کچھ ، اپنے لئے تو ہم نے کچھ بھی نہیں کہا ہم تو یہ کہتے ہیں فرعون کو جو دنیا کا سب سے بڑا جابر ہے آج اور سلطنت کی طاقتوں پر قابض ہے کہ تو یہ سب کچھ کر اور ہم اس کے مقابلہ پر پہلے سے بڑھ کر