خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 244
خطبات طاہر جلد ۳ 244 خطبہ جمعہ الارمئی ۱۹۸۴ء ،شعیب نے ایسا پیارا جواب دیا ہے کہ سارا Inflated غبارہ جو ہے وہ ایک دم Collapse کر کے بالکل بے معنی اور خالی ہو جاتا ہے اپنے استکبار سے۔جواب وہ دیتے ہیں قَالَ أَوَلَوْ كُنا کرِهِینَ کہ تم کہتے ہو کہ ہماری ملت میں لوٹ آؤ تو ملت میں تو لوٹ آنا تو ذہن اور دل سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارے دل قائل نہ ہوں اور تم زبردستی اپنی ملت میں ہمیں واپس لے آؤ۔تو تم تو اتنے بے اختیار ہواے خدائی کے دعویدارو! کہ تمہارا تو اتنا بھی اثر نہیں ہے ہمارے دماغ اور دل پر کہ تمہاری تلوار میں ہمارے دماغوں اور دلوں کو یہ قائل کر سکیں کہ تمہاری ملت میں آنا بہتر ہے۔کتنا عظیم الشان جواب ہے، اظہار درد کا بھی کمال ہے اور اظہار حکمت کا بھی کمال ایسی غالب دلیل دی ہے اس جھوٹی خدائی کے خلاف کہ جس کے سامنے کسی کی پیش نہیں جاسکتی کہ تم تو بہت بڑے بن رہے ہو تم تو کہتے ہو ہماری زمین ہے ہم تمہیں نکالیں گے یا ز بر دستی واپس لے آئیں گے تو حالت تمہاری یہ ہے کہ نہ ہمارے دل کو قائل کر سکو نہ دماغ کو قائل کر سکو۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ مضمون آگے بڑھ کر فرعونیت میں تبدیل ہو جاتا ہے کیونکہ ان تین مثالوں کے بعد پھر فرعون کی مثال آتی ہے اور جس میں ایک اور پیغام ہے وہ یہ ہے کہ جب تم کچی نبوت کا انکار کرو گے اور اپنے لئے خدائی کی صفات اپنے لئے ہتھیانے کی کوشش کرو گے تو تم پر ایک جھوٹا خدا مسلط کیا جائے گا جس کے قبضہ قدرت سے پھر تم نہیں نکل سکو گے اور دردناک عذاب میں مبتلا کئے جاؤ گے کیونکہ بچی نبوت سے اگر تم بچنا چاہتے ہو تو اس کا متبادل آزادی نہیں رہی اب۔جب خدا فیصلہ کرتا ہے تمہیں اپنے قبضے میں لینے کا تو دو ہی شکلیں ہیں یا تمہیں اللہ کے قبضے میں آنا پڑے گا یا غیر اللہ کے قبضے میں جانا پڑے گا تو جو تمہارے انکار کا فلسفہ ہے جو نفسیاتی کیفیت انکار پر منتج ہورہی ہے وہ تو دہریت ہے اور خدائی کا دعوی ہے تو اس کی سزا یہ ہے کہ تم پر پھر ایک فرعون مسلط کیا جائے گا۔اس مضمون کو اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَجِدِينَ کو دیکھو جب جادوگروں نے جو فرعون کی تائید میں کھڑے تھے انہوں نے دیکھا کہ خدا موسٹی کی طرف ہے اور نہ ہماری طرف ہے اور نہ ہمارے فرعون کی طرف ہے تو باوجود اس کے کہ نہایت عاجز اور کمزور لوگ تھے قَالُوا أَمَنَّا بِرَبِّ الْعَلَمِینَ انہوں نے کہا کہ ہم تو رب العلمین پر ایمان لے آتے ہیں اور یہ وضاحت کرنے کے لئے کہ کہیں غلطی سے فرعون نہ یہ سمجھ لے کہ میں ہی رَبِّ الْعَلَمِینَ ہوں انہوں