خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 19
خطبات طاہر جلد۳ 19 خطبه جمعه ۱۳؍ جنوری ۱۹۸۴ء لیکن بعض لوگ عفو نہیں کر سکتے اور ان کو عفو پر مجبور بھی نہیں کیا جاسکتا۔یہ اتنی عظیم الشان عدل کی تعلیم ہے کہ اگر اس کو رائج کیا جائے دنیا میں تو دنیا کے اکثر مصائب محض اسی تعلیم پر عمل پیرا ہونے کے نتیجہ میں ختم ہو سکتے ہیں۔فرماتا ہے ، عفو جو ہے یہ احسان کے ساتھ تعلق رکھنے والا جذ بہ ہے، یہ لازمی نہیں ہے اس لئے اگر تم عفو نہیں کر سکتے اور لازماً سزا دینا چاہتے ہو کسی کو تو پھر صرف یہ شرط ہے کہ جتنا جرم ، جتنی بدی کی گئی ہو اتنا ہی تم نے بدلہ لینا ہے اس سے آگے ایک قدم بھی تمہیں جانے کی اجازت نہیں۔یہ وہ عظیم الشان اسلامی تعلیم ہے جس کو اگر آج دنیا میں نافذ کیا جائے تو یہ جو خطرات کے مہیب بادل جو چھائے ہوئے ہیں اور کڑ کنے بھی لگے ہیں۔اب ان کی گرجیں سنائی دینے لگی ہیں، یہ سارے بادل کا فور ہو سکتے ہیں کیونکہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ بتایا تھا دنیا میں جتنی جنگیں ہیں جو ہو چکیں ، ان سب کے پس منظر میں بعض اسلامی تعلیمات کو بھلا دینا آپ کو دکھائی دے رہا ہوگا۔ہر جنگ سے پہلے کے حالات پر آپ غور کریں تو لازماً اسلامی تعلیم کو نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں وہ جنگیں پیدا ہوئیں اور ہر جنگ کے بعد کے جو حالات ہیں ان کے نتیجہ میں انگلی جنگیں پیدا ہوئیں اس لئے کہ جنگ کے بعد کے حالات میں بھی انسان نے اسلامی تعلیم پر نظر نہیں رکھی ، اس پر عمل نہیں کیا۔چنانچہ وَجَزْؤُا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشوری: ۴۱) میں خدا تعالیٰ نے نہ فرد کو اجازت دی نہ قوم کو اجازت دی کہ اگر تم سے بدی کی جاتی ہے تو اس سے بڑھ کر تم بدلہ لو۔صرف ایک ایسی چیز ہے جو بدلہ لینے والوں کو مجبور کر دیا کرتی ہے قومی لحاظ سے کہ بدی سے بڑھ کر وہ بدلہ لیں اور وہ بعض دفعہ انفرادی طور پر بھی ہمیں دکھائی دیتی ہے۔بعض لوگ تو ویسے ہی منتقم اور مغلوب الغضب ہوتے ہیں میں ان کی بات نہیں کر رہا، عام درمیانی انسانی فطرت رکھنے والے لوگوں سے متعلق آپ غور کر کے دیکھیں کہ جب وہ بدی کا بدلہ لیتے ہیں اور زیادتی کرتے ہیں تو اس کے پیچھے ایک محرک ہوتا ہے اور یہی محرک جو ہے قوموں کو بھی بدی سے بڑھ کر بدلہ لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔وہ محرک یہ ہوتا ہے کہ انکوخوف ہوتا ہے کہ جس شخص نے ہم سے زیادتی کی اگر ہم نے اتنا ہی بدلہ لیا جتنا اس نے ظلم کیا تھا تو یہ اتنا کمزور نہیں ہوگا ، اتنی سخت اسکوسز انہیں ملے گی کہ اس کے نتیجہ میں آئندہ جرأت نہ کر سکے۔تو وہ تو ڑنا چاہتے ہیں بد کی طاقت کو باوجود اس کے کہ اس نے تھوڑا ظلم کیا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے اندر سے آئندہ بدی کی طاقت چھین لی جائے یعنی اس کو اتنا کمزور اور بے کار کر دیا جائے کہ پھر یہ اٹھ نہ سکے۔اس کے نتیجہ